جیکب آباد میں علمی نشست کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ تاریخ اسلام کی متنازعہ شخصیات اور ظالم و جابر حکمرانوں، جیسے ہارون الرشید کو سرچشمہ ہدایت اور عادل حکمران کے طور پر پیش کرنا تاریخ کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنماء اور نصاب تعلیم کونسل کے کنوینر علامہ مقصود ڈومکی نے کہا ہے کہ نصاب تعلیم کروڑوں طلباء و طالبات کے مستقبل کا تعین کرتا ہے۔ یہ وہ سانچہ ہے جس میں ڈھل کر نئی نسل تیار ہوتی ہے۔ نصاب تعلیم میں متنازعہ مواد کی اصلاح وقت کی ضرورت ہے۔ یہ بات انہوں نے جامعۃ المصطفیٰ خاتم النبیین جیکب آباد میں نصاب تعلیم پر علمی و تحقیقی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ نصاب تعلیم کونسل مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے زیر اہتمام جامعۃ المصطفیٰ خاتم النبیین میں اسکول اساتذہ اور علماء کرام کی ایک مشترکہ تحقیقی و علمی نشست منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت نصاب تعلیم کونسل کے مرکزی کنوینر علامہ مقصود علی ڈومکی نے کی۔ اس علمی نشست میں استاد امداد حسین جعفری، استاد محمد قاسم لہر، علامہ سیف علی ڈومکی، مولانا ارشاد حسین سولنگی، استاد رفیق احمد ڈومکی، استاد حامد حسین راہوجو، استاد ساجد حلیم شیخ، مولانا منور حسین سولنگی، استاد سجاد علی بروہی، جمیل احمد ڈومکی، نثار احمد گورگیج، منصب علی، ریاض احمد و دیگر شریک ہوئے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ نصاب تعلیم کروڑوں طلباء و طالبات کے مستقبل کا تعین کرتا ہے، یہ وہ سانچہ ہے جس میں ڈھل کر نئی نسل تیار ہوتی ہے۔ تاریخ اسلام کی متنازعہ شخصیات اور ظالم و جابر حکمرانوں، جیسے ہارون الرشید کو سرچشمہ ہدایت اور عادل حکمران کے طور پر پیش کرنا تاریخ کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ وزارت تعلیم اور نصاب تعلیم کونسل کو چاہیے کہ وہ نصاب کے متنازعہ نکات کی اصلاح کرے۔ انہوں نے کہا کہ نصاب تعلیم ایسا ہونا چاہیے جو مختلف مسالک کے درمیان اتحاد، وحدت، باہمی احترام اور رواداری کو فروغ دے۔ نصاب تعلیم بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح، حکیم الامت علامہ اقبال اور بانیان پاکستان کے افکار کی ترجمانی کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعہ کربلا کو نصاب کا حصہ بنایا جائے تاکہ نئی نسل میں حق گوئی جرات، بہادری اور ایثار کے جذبات پروان چڑھیں۔ انہوں نے کہا کہ آئمہ اہل البیت علیہم السلام پوری انسانیت کے رہبر ہیں اور ان کی سیرت و تعلیمات کو نصاب میں شامل کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر استاد محمد قاسم لہر استاد سجاد علی بروہی اور استاد رفیق احمد ڈومکی نے کہا کہ اہل بیت پیغمبر پوری امت مسلمہ کے رہبر و رہنماء اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم کے وارث ہیں۔ ان کی پاکیزہ تعلیمات کو نصاب تعلیم میں شامل کیا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نصاب تعلیم کونسل ڈومکی نے کہا علامہ مقصود نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم

 احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔

پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔ 

احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔ 

انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔ 

احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ 

انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم