خواجہ آصف نے حارث پر جرمانے کے بعد بھارت کو ایک بار پھر 0-6 یاد دلادیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
وزیر دفاع خواجہ آصف نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے حارث رؤف پر جرمانے پر بھارت کو ایک مرتبہ پھر 0-6 کا اسکور یاد دلادیا۔
واضح رہے کہ دبئی انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں 21 ستمبر کو ہونے والے پاک بھارت میچ کے دوران فاسٹ بولر حارث رؤف نے 0-6 اور جہاز گرنے کا اشارہ کیا تھا۔
آئی سی سی کے میچ ریفری رچی رچرڈسن نے حارث رؤف کو میچ فیس کا 30 فیصد جرمانہ عائد کیا ہے۔
جس کے بعد بھارتی بورڈ نے آئی سی سی سے شکایت کی تھی اس پر آئی سی سی نے حارث رؤف پر میچ فیس کا 30 فیصد جرمانہ عائد کیا جبکہ صاحبزادہ فرحان کو نصف سنچری کا جشن بندوق کے انداز میں کرکٹ بیٹ دکھاکر منانے پر وارننگ دی۔
پاکستان کی جانب سے بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان سوریا کمار یادو کے خلاف بھی شکایت درج کروائی تھی، جس پر آئی سی سی نے سوریا کمار یادو کو قصور وار قرار دیتے ہوئے میچ فیس کا 30 فیصد جرمانہ عائد کیا۔
اس حوالے سے وزیر دفاع خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ حارث رؤف پر جرمانہ 30 فیصد، سوریا کمار یادو پر بھی 30 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا ہے، جو ٹوٹل 60 ہوتا ہے۔ جو پھر 0-6 بنتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے فاسٹ بولر حارث رؤف پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے عائد جرمانہ ذاتی طور پر ادا کرنے کا اعلان کر دیا۔
رپورٹس میں ذرائع کا حوالے دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ چیئرمین پی سی بی حارث رؤف پر عائد جرمانہ ذاتی طور پر ادا کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔