متنازع اشارے اور بیانات: آئی سی سی نے حارث رؤف اور سوریا کمار پر جرمانہ عائد کر دیا، صاحبزادہ فرحان کو وارننگ
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
ایشیا کپ میں پاک بھارت میچ کے دوران متنازع اشارے اور بیانات کے معاملے پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے کارروائی کرتے ہوئے پاکستانی فاسٹ بولر حارث رؤف اور بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو پر میچ فیس کا 30 فیصد جرمانہ عائد کر دیا، جبکہ بیٹر صاحبزادہ فرحان کو صرف وارننگ دے کر چھوڑ دیا گیا ہے۔
آئی سی سی کا فیصلہ: تینوں کھلاڑی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب
آئی سی سی کے مطابق، حارث رؤف اور سوریا کمار یادیو کو لیول ون جرم کا مرتکب قرار دیا گیا۔ حارث رؤف کو بھارتی شائقین کی طرف ہاتھوں سے چھ صفر کا اشارہ کرنے پر جرمانہ اور وارننگ دی گئی، جبکہ سوریا کمار یادیو کو میچ کے بعد پریزنٹیشن میں سیاسی بیان بازی پر سزا دی گئی۔
صاحبزادہ فرحان کو میدان میں “گن سیلبریشن” پر صرف وارننگ ملی، تاہم کوئی جرمانہ عائد نہیں کیا گیا۔
سماعت میں دلچسپ مکالمے
آئی سی سی کی سماعت میں پاکستانی کھلاڑیوں نے اپنے موقف کا پُرزور دفاع کیا۔
حارث رؤف
میچ ریفری رچی رچرڈسن نے سوال کیا کہ “0-6 کا اشارہ کیوں کیا؟”
حارث رؤف نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ مجھے بتائیں، 0-6 کا مطلب کیا ہے؟ کیا آپ یا بھارتی بورڈ بتا سکتے ہیں کہ اس اشارے سے میرا کیا مطلب ہو سکتا تھا؟
انہوں نے کہا کہ یہ صرف تماشائیوں کی جانب ایک غیر سنجیدہ اشارہ تھا، اس کا کوئی سیاسی یا جارحانہ مقصد نہیں تھا۔
صاحبزادہ فرحان
جب ان سے گن سیلبریشن کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھاکہ ہم پٹھان ہیں، خوشی میں گن سیلبریشن ایک ثقافتی اظہار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں دھونی اور کوہلی بھی اسی طرح کے سیلیبریشن کر چکے ہیں۔ ریفری کے اعتراض پر کہ “یہ کرکٹ ہے، یہاں اشارے کو مختلف انداز میں لیا جاتا ہے”، فرحان نے کہاکہ اگر کوہلی کر سکتے ہیں، تو ہم کیوں نہیں؟
وریا کمار کا سیاسی بیان اور اس کا ردعمل
یاد رہے کہ 14 ستمبر کو سوریا کمار یادیو نے پاک بھارت میچ کے بعد ایک پریزنٹیشن کے دوران پہلگام واقعے کا حوالہ دے کر ایک سیاسی بیان دیا تھا۔ اس پر پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) نے فوری طور پر آئی سی سی کو شکایت درج کروائی تھی۔
اب آئی سی سی نے اس بیان کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سوریا کمار پر 30 فیصد میچ فیس کا جرمانہ عائد کر دیا ہے، تاہم کوئی معطلی یا بڑی سزا نہیں دی گئی۔
???????? بھارتی اعتراض، پاکستانی ردعمل
بھارتی کرکٹ بورڈ (BCCI) کی جانب سے دونوں پاکستانی کھلاڑیوں کے خلاف باضابطہ شکایت درج کرائی گئی تھی، جس کے بعد آئی سی سی نے سماعت کی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ شکایت ایسے وقت کی گئی جب بھارت نے پاکستان کے خلاف میچ میں کامیابی حاصل کی تھی، اس کے باوجود حارث اور فرحان کے انداز نے بھارتی فینز اور بورڈ کو ناپسند آیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سوریا کمار یادیو
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔