ایشیا کپ، محسن نقوی کا بڑا فیصلہ، حارث رؤف پر عائد ہونے والا جرمانہ اپنی جیب سے ادا کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ فاسٹ بولر ہارس رؤف کا جرمانہ خود ادا کریں گے۔ ان پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے “گالی گلوچ” کے الزام میں میچ فیس کا 30 فیصد جرمانہ عائد کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:ایشیا کپ: حارث اور ’سوریا‘ پر آئی سی سی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر جرمانہ، صاحبزادہ فرحان کو وارننگ
اسی دوران پاکستان کے اوپننگ بیٹر صاحبزادہ فرحان کو بھی سپر فاؤرز میچ میں بھارت کے خلاف متنازعہ جشن کے لیے وارننگ دی گئی۔
پی سی بی کے مطابق چیئرمین محسن نقوی ہارس رؤف کی یہ پینلٹی خود برداشت کریں گے۔
دوسری جانب، بھارت کے کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے آئی سی سی اور میچ ریفری اینڈی پائکرافٹ کے پاس ہارس رؤف اور صاحبزادہ فرحان کے خلاف شکایت درج کروائی ہے۔
بھارت نے دبئی اسٹیڈیم میں پاکستان کے دونوں کھلاڑیوں کے رویے کو ناقابل قبول قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:’بدلہ لینا ہے، چھوڑنا نہیں ہے‘، جذباتی شائقین کی حارث رؤف سے گفتگو سوشل میڈیا پر وائرل
ہارس رؤف پر میچ کے دوران کئی متنازعہ اشارے کرنے کا الزام ہے، جبکہ فرحان نے اپنی نصف سنچری کے بعد گن شاٹ کی طرح جشن منایا۔
پی سی بی نے اسی دوران بھارتی کپتان سوریہ کمار یادو کے خلاف بھی 2 شکایات آئی سی سی کے پاس درج کروائی ہیں، جن پر آئی سی سی نے سوریہ کمار کو بھی میچ فیس کا 30 فیصد جرمانہ عائد کیا۔
پی سی بی نے آئی سی سی سے درخواست کی ہے کہ سوریہ کمار پر سخت سطح 4 سزا لگائی جائے، جو سب سے سنگین خلاف ورزیوں کے لیے ہوتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جرمانہ چیئرمین پی سی بی حارث رؤف دبئی اسٹیڈیم محسن نقوی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چیئرمین پی سی بی دبئی اسٹیڈیم محسن نقوی محسن نقوی ہارس رؤف پی سی بی
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔