سیلاب، غفلت اور فیصلوں کی تاخیر
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
میں اپنے کالم کا آغاز،کراچی کے شہرت یافتہ آرکیٹیکٹ اور معروف شہری منصوبہ ساز عارف حسن کے اس جملے سے کروں گی کہ ’’ شہر مردہ نہیں زندہ ہوتے ہیں، اگر آپ ان کی ضروریات پوری نہیں کریں گے تو یہ خود سے اپنی ضروریات پوری کرتے رہیں گے۔ ‘‘
سنا ہے کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں بھوک سے نڈھال، نقاہت زدہ معصوم اور بے زبان جانور بھی کشتیوں میں امداد پہنچانے والے رضاکاروں کو حسرت اور امید سے دیکھ رہے تھے، یہ امید کہ شاید انسانوں کو ان کا اور ان کے بچوں کا درد محسوس ہو جائے۔
بدقسمتی سے اس آفت سے انسانوں کے ساتھ ساتھ بے زبان مخلوق بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ ڈیجیٹل تصاویر کھینچی جا رہی ہیں، جب کہ تصویروں سے نہ پیٹ بھرتا ہے، نہ بدن چھپتا ہے، نہ چھت ملتی ہے بلکہ یہاں تو زمین بھی پیروں تلے سے سرک رہی ہے بپھرا ہوا پانی زمین، گھر سب کچھ اپنے ساتھ بہا کر لے گیا۔
ان بے زبانوں کو کیا خبر کہ کورونا کے دوران بے روزگار، روٹی روزی کو ترستا، اس ملک کا غریب پانچ روپے والا ماسک موت اور قانون کے خوف سے سو روپے میں بھی خریدتا رہا ؟ یہ منظر ہمیں خبردار کرتا ہے کہ قوم سازی میں فیصلوں کی تاخیر کا انجام ہمیشہ بھیانک ہوتا ہے، آج کا کام کل پر چھوڑنے والوں کی کل کبھی نہیں آئی۔
ہم کب ہوش کے ناخن لیں گے؟ ہم قدرتی نعمت پانی کو ذخیرہ کرنے کے مواقعے بار بار بہانے بازیوں اور تاخیر کے باعث ضایع کر رہے ہیں۔ جہاں دنیا کے 140ممالک نے گزشتہ 122 سالوں کے دوران آبپاشی، گھریلو یا صنعتی استعمال کے لیے پانی کی فراہمی، پن بجلی پیدا کرنے اور سیلاب پر قابو پانے کے لیے 45,000سے زائد ڈیم بنائے ہیں۔
وہیں پاکستان اپنی قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود محض 150چھوٹے بڑے ڈیم ہی بنا سکا ہے۔ جب کہ ہمیں اپنی بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے مستقبل میں پانی و بجلی کی ضروریات پورا کرنے کے لیے کم از کم 750چھوٹے ڈیم بنانے کی اشد ضرورت ہے۔
قوموں کی ترقی میں پانی کی اہمیت روزِ روشن کی مانند ہے۔ پوری دنیا نے دور اندیشی سے کام لیا، مستقبل کے چیلنجز کو محسوس کیا اور پانی کے مسائل پر خاص توجہ دی، اس کی مثالیں واضح ہیں۔
بھارت کے پاس تین ہزار دو سو سے زائد چھوٹے بڑے ڈیم ہیں، اس نے ہمیں لڑائیوں میں الجھا کر کشمیر سے آنے والے پانی پر بھی دس سے زائد بڑے ڈیم بنا ڈالے اور اپنا بیشتر پانی اپنے کنٹرول میں کر لیا اور آبی جارحیت پر اتر آیا، لیکن ڈیموں کے سلسلے میں اندرونی و بیرونی دباؤ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔
دوسری مثال جاپان کی ہے، اس کا رقبہ پاکستان کے مجموعی رقبے کا تقریباً آدھا ہے اور آبادی ساڑھے بارہ کروڑ نفوس کے قریب ہے، مگر آج وہ دنیا کی تیسری بڑی معاشی طاقت ہونے کے ساتھ ساتھ چھوٹے بڑے پانچ لاکھ سے زائد ڈیموں کا حامل ہے اور 47 صوبوں میں عالمی معیار کے حامل پانچ ہزار سے زائد ڈیم تیار کر چکا ہے۔
جاپان نے بروقت فیصلے کر کے اپنے انتظامی ڈھانچے کو مضبوط کیا اور اختیارات کو لوکل سطح تک منتقل کر کے تعمیر و ترقی کی بنیاد رکھی جب کہ ہم اور ہمارے سیاسی اکابرین 18ویں ترمیم سے محبت کے طور پر اپنی خدمات کے گن گاتے رہ گئے جب کہ اٹھارویں ترمیم دلہا کے سر پر سہرے کی مانند شہ سرخیوں میں دلہے کے سہرا باندھتی رہی۔
اس خوشی کی لہر نے ایسی روشنی پھیلائی کہ اردگرد کے لوگوں کی آنکھیں چکا چوند ہوگئیں اور نتائج آنکھوں سے اوجھل ہو گئے جب کہ اس ترمیم نے ساتھ دینے والوں کو خوب نوازا، قوم کو جب ہوش آیا تو زمین پیروں تلے سے سرک چکی تھی۔
اس اٹھارویں ترمیم کا مقصد اقتدار کو نچلی سطح یعنی عوام کے سپرد کرنا تھا جو آج تک نہ ہو سکا، البتہ اختیارات اور وسائل فقط چند قریب ترین اعلیٰ شخصیات اور افسران و نوکر شاہی کے مرہون منت رہے اور وہی آج بھی غاصب ہیں۔
ہمیں سوچنا ہوگا، کیا ہم یونہی سیلاب جھیلتے رہیں گے؟ جس سے نہ صرف عام آدمی خطرناک حد تک متاثر ہو رہا ہے بلکہ معیشت، زراعت اور قومی سلامتی سب کچھ داؤ پر لگ رہا ہے؟ ہم ابھی تک خوابِ غفلت کی گہری نیند سوئے ہوئے ہیں۔
ہمیں جلد از جلد فیصلے کرنے ہوں گے، ڈیموں اور پانی کے مشترکہ وسائل پر خصوصی توجہ دینی ہوگی اور عام آدمی تک انصاف و بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اصلاحات کے ساتھ ساتھ نئے صوبے بنانے ہوں گے۔
مقامی انتظامیہ اور اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی سے وسائل کا بروقت استعمال، نقصانات کا بروقت تدارک اور انصاف کی فراہمی آسان ہوتی ہے۔ میں ایک مرتبہ پھر شکریہ ادا کرتی ہوں، ان پالیسی سازوں کا جن کو میرے 29 جون کو ایکسپریس میں شایع ہونے والے کالم سے کم از کم نئے صوبوں کا تو خیال آیا۔
یاد دہانی اس امر کی بھی ہے کہ 2019 میں قومی اسمبلی میں میرے پیش کردہ بل برائے نئے صوبوں کی تشکیل بھی توجہ کا متقاضی ہے، سب ہوم ورک مکمل ہے، اسمبلی سے کثرت رائے سے منظور بھی ہے، اب ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ اسے عملی جامہ پہنا کر اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں۔
جب ہم بروقت فیصلے کریں گے، ڈیم ساز منصوبوں کو پالیسی اور مالی معاونت دیں گے اور نئے انتظامی ڈھانچوں کے ذریعے اختیارات کو مقامی سطح پر منتقل کریں گے تو ہم نہ صرف اس ملک میں بسنے والے انسانوں بلکہ ان بے زبان جانوروں اور نباتات کی نسلوں کو بھی تحفظ فراہم کر سکیں گے جو آج ہماری بے حسی کا خمیازہ بھگت رے ہیں۔
ورنہ وہی منظر جاری رہے گا، کسادِ کاری، تباہ شدہ فصلیں، بھوک و پیاس میں نڈھال انسان اور کناروں پر لاشیں۔ جن کے پیچھے سیاسی تماشہ بازی جاری رہے گی۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات بدلیں، لفاظی سے کام نہیں چلے گا، عمل درکار ہے۔
ورنہ یہ ملک تباہی کے کنارے کھڑا رہے گا اور ہمیں خود کو اور آیندہ نسلوں کو جوابدہ ثابت کرنا ہوگا۔ میں پھر کہوں گی کہ فیصلوں میں تاخیر کا انجام جان لیوا ہوتا ہے۔ دریاؤں کے پانی نے تو اپنا فیصلہ خود کر کے اپنی سمت کا تعین کردیا، اگر سمندر نے بھی اپنا فیصلہ کر دیا تو! خدانخواستہ ’’ ہماری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔‘‘
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اللہ کو منانے اور انسانوں کو بچانے کا ایک ہی راستہ ہے کہ ہمارے قانون 140 A جس کے تحت اختیارات عوام کے ہاتھ میں ہونا چاہیے، اچھی یا بری اسمبلیاں موجود ہیں لیکن اب اختیارات کی باگ ڈور اس عوام الناس کے ہاتھوں میں دی جائے جو اپنے ذرے ذرے سے پیار کرتے ہیں، ان ہی پر اعتماد کرتے ہوئے یہ ذمے داری ان کے سپرد کردی جائے تاکہ اپنی زمین کی حفاظت وہ خود کریں نہ کہ وفاق یا چند صوبائی حکومتوں تک محدود رہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔
ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔
حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔
2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔
کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک ہے۔
ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک محیط ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔
سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔
یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔
صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔
نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔
پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔
اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے 80 فیصد قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔