پاکستان کی وسطی ایشیائی ممالک، افغانستان اور آذربائیجان کے ساتھ تجارت 2.41 ارب ڈالر تک پہنچ گئی
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 27 ستمبر2025ء) مالی سال 2024-25 میں پاکستان کی وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ ساتھ افغانستان اور آذربائیجان کے ساتھ دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو بڑھ کر 2.41 ارب ڈالر کی بلند سطح تک پہنچ گئی ہے۔ ویلتھ پاکستان کو موصول دستاویزات کے مطابق گزشتہ مالی سال 2023-24 میں یہ حجم 1.
(جاری ہے)
افغانستان بدستور پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے جہاں برآمدات بڑھ کر 1.39 ارب ڈالر جبکہ درآمدات 612.5 ملین ڈالر تک جا پہنچی ہیں۔
قازقستان نے بھی اہم شراکت دار کے طور پر اپنی جگہ بنائی ہے، جہاں پاکستان کی برآمدات 250.8 ملین ڈالر تک بڑھ گئی ہیں۔ازبکستان کو بھیجے جانے والی پاکستانی برآمدات 91.4 ملین ڈالر رہیں جبکہ وہاں سے درآمدات 20.3 ملین ڈالر تک محدود رہیں۔ دیگر ممالک بشمول کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان اور آذربائیجان کے ساتھ تجارت کا حجم نسبتاً کم رہا تاہم یہ تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔علاقائی تجارتی منظرنامہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ وسطی ایشیائی ممالک میں پاکستان کے لیے وسیع مواقع ابھی بھی بڑی حد تک غیر استعمال شدہ ہیں۔ اعدادوشمار کے مطابق صرف مالی سال 2024 میں وسطی ایشیائی ریاستوں نے دنیا بھر کے ساتھ 318.01 ارب ڈالر کی تجارت کی، تاہم پاکستان کا حصہ اس میں ابھی بھی 0.5 ارب ڈالر سے کم ہے۔مالی سال 2025 میں پاکستان اور وسطی ایشیا کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ 410 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئی، جو اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے کے ممالک بتدریج پاکستان کی راہداریوں پر زیادہ انحصار کر رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ تجارتی اضافہ یقیناً خوش آئند ہے، لیکن پاکستان کے لیے اصل موقع اس وقت کھلے گا جب وہ وسطی ایشیائی بلاک کے ساتھ براہِ راست زمینی روابط اور حکمتِ عملی پر مبنی تجارتی راستے قائم کرے۔ اس حوالے سے ویلتھ پاکستان کی رپورٹ میں بھی اس پہلو پر زور دیا گیا ہے کہ مستقبل میں پاکستان خطے کی وسیع تر منڈیوں تک رسائی کے لیے اپنا کردار مزید مؤثر بنا سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے وسطی ایشیائی میں پاکستان پاکستان کی ملین ڈالر ارب ڈالر مالی سال ڈالر تک کے ساتھ
پڑھیں:
برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
وزیرِ اعظم شہباز شریف—فائل فوٹووزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ صنعتی مصنوعات کی پیداوار میں اضافے سے برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات ترجیح ہیں۔
وزیرِاعظم کی زیرِ صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سے مختلف زیرِغور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اسحاق ڈار، محمد اورنگزیب، احد چیمہ، عطاء تارڑ شریک ہوئے۔
نوجوانوں کو جدید علم اور مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی ضرورت ہے، اے آئی کے فوائد اور چیلنجز دونوں ہیں: شہباز شریف
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کی ضروریات متبادل توانائی ذرائع سے پوری کرنے کے لیے بھر پور کام ہو رہا ہے۔
وزیرِ اعظم کا مزید کہنا ہے کہ توانائی بچانے اور سستی ٹرانسپورٹ کے لیے الیکٹرک وہیکلز پالیسی ضروری ہے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی اولین ترجیح ہے۔