چین کے تعاون سے پاکستان میں سالانہ 80 ہزار گدھوں کی افزائش کا منصوبہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
پاکستان میں ایک منفرد سرمایہ کاری سامنے آئی ہے جہاں چینی کمپنی سنگ یِنگ نے 37 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کے تحت گدھوں کی افزائش نسل کے منصوبے پر کام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد کے بعد بٹگرام میں گدھے کا گوشت برآمد، مقامی مارکیٹوں میں سپلائی کا شبہ
منصوبے کے تحت ملک بھر میں 40 خصوصی فارمز قائم کیے جائیں گے جبکہ پشاور کی زرعی یونیورسٹی میں جدید لیبارٹری بھی بنائی جائے گی تاکہ سائنسی بنیادوں پر افزائش کا عمل ممکن بنایا جا سکے۔
وزارتِ فوڈ سکیورٹی کے ذرائع کے مطابق منصوبے کا ہدف ہر سال 80 ہزار گدھے پیدا کرنا ہے، جن میں سے 10 ہزار گدھوں کا گوشت اور ہڈیاں ہر ماہ چین برآمد کی جائیں گی، تاہم مقامی سطح پر گدھے کے گوشت کی فروخت کی اجازت نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کے کس صوبے میں کتنے گدھے ہیں؟ حیران کن تفصیلات سامنے آگئیں
حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ پاکستان کو گدھوں کی عالمی سپلائی چین کا حصہ بنانے اور نئی تجارتی راہیں کھولنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
donkey پاکستان پشاور چین گدھا گدھے گدھے کا گوشت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان پشاور چین گدھا گدھے گدھے کا گوشت
پڑھیں:
پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں، جس کے بعد مجموعی رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے مطابق مئی کے دوران ملک بھر میں 3 ہزار 161 نئی کمپنیاں رجسٹر کی گئیں، جس کے بعد رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 2 لاکھ 97 ہزار 239 ہو گئی ہے۔ ایس ای سی پی کے اعداد و شمار کے مطابق نئی رجسٹر ہونے والی کمپنیوں میں سے 99.9 فیصد کی رجسٹریشن آن لائن طریقہ کار کے ذریعے مکمل کی گئی، جو کاروباری سرگرمیوں میں ڈیجیٹل سہولتوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی کرتی ہے۔ صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔
شعبہ وار جائزے کے مطابق سب سے زیادہ کمپنیاں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کے شعبے میں رجسٹر کی گئیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں 598 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ ٹریڈنگ سیکٹر میں 503، سروسز کے شعبے میں 404 اور رئیل اسٹیٹ و کنسٹرکشن کے شعبے میں 303 نئی کمپنیاں قائم کی گئیں۔ایس ای سی پی کے مطابق سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی نمایاں سرگرمی دیکھنے میں آئی، جہاں 206 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن عمل میں لائی گئی۔ ادارے نے بتایا کہ مئی کے دوران 17 مختلف ممالک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان میں کمپنیاں رجسٹر کروائیں۔ اعداد و شمار کے مطابق چین سے تعلق رکھنے والے 89 شیئر ہولڈرز نے مختلف کمپنیوں میں ڈائریکٹر شپ حاصل کی جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی کمپنیوں کا ادا شدہ سرمایہ 139.4 ملین روپے ریکارڈ کیا گیا۔