ایران نے برطانیہ، جرمنی اور فرانس سے اپنے سفیر واپس بلالیے
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
ایران نے جوہری پروگرام اور پابندیوں سے متعلق ایک بڑی پیشرفت میں جرمنی، فرانس اور برطانیہ میں تعینات اپنے سفیروں کو فوری طور پر واپس بلا لیا۔
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق یہ فیصلہ تینوں یورپی ممالک کی جانب سے ’’ٹرگر میکانزم‘‘ فعال کرنے کے ردعمل میں بطور احتجاج کیا گیا۔
ایران نے برطانیہ، جرمنی اور فرانس کے E3 اقدام کو غیر ذمہ دارانہ اور ظالمانہ فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یورپی ٹرائیکا کی شرائط ناقابل قبول ہیں۔ ہم دباؤ میں آکر کوئی فیصلہ نہیں کریں گے۔
قبل ازیں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نیویارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران یورپی رہنماؤں سے مذاکرات کیے لیکن وہ کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے تھے۔
دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے بھی تسلیم کیا کہ یورپی ممالک کے ساتھ مشاورت جیسی توقع تھی ویسی نہیں ہوئی۔
ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے اعلان کیا کہ کسی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ ایران اپنے قومی مفادات اور جوہری پروگرام کے حق میں ڈٹا رہے گا، خواہ اس کے نتیجے میں اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ نافذ کیوں نہ ہو جائیں۔
خیال رہے کہ 3 یورپی ممالک (برطانیہ، فرانس، اور جرمنی) نے 28 اگست کو ایران کے خلاف وہ عمل شروع کیا جسے snapback یا ’’ٹرگر میکانزم‘‘ کہتے ہیں۔
تینوں ممالک نے ٹرگر میکانزم کو فعال کرنے کی اطلاع اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو دی کہ معاہدے پر عمل درآمد ایران کی کارکردگی نہایت پست رہی ہے۔
اگر سلامتی کونسل نے اس فیصلے کو روکنے کی قرارداد منظور نہ کی تو 30 دن کے اندر ایران پر اقوم متحدہ کی پابندیاں دوبارہ نافذ ہو جائیں گی۔
ٹرگر میکانزم (Trigger Mechanism) کیا ہے؟
“ٹرگر میکانزم” اصل میں ایران کے ساتھ عالمی قوتوں کے جوہری معاہدے (JCPOA – Joint Comprehensive Plan of Action) سے متعلق ایک قانونی ردعمل ہے۔
جسے “ڈسپیوٹ ریزولوشن میکانزم” یا “Snapback Mechanism” بھی کہا جاتا ہے۔
اگر معاہدے کے کسی فریق کو یہ شبہ ہو کہ ایران (یا کوئی اور رکن ملک) معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے تو وہ اس میکانزم کو استعمال کر کے معاملے کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل تک لے جا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ ایران کے جوہری معاہدے سے انحراف کی شکایت درست ہے تو ایران کو پابندیوں پر دی گئی رعایت ختم ہوجاتی ہیں یعنی پابندیاں دوبارہ لاگو ہوجاتی ہیں۔
علاوہ ازیں اگر سلامتی کونسل 30 دن میں ایران پر عائد پابندیوں کو روکنے کی کوئی متفقہ قرارداد منظور نہ کرسکے تو پابندیاں خودکار طور پر (automatically) دوبارہ نافذ ہو جاتی ہیں۔
اس میکانزم کو “ٹرگر” اس لیے کہا جاتا ہے کہ ایک بار فعال کردیا جائے تو پابندیاں لازمی طور پر دوبارہ عائد ہو جاتی ہیں، چاہے کسی ملک کو پسند ہو یا نہ ہو اور اس پر ویٹو بھی استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹرگر میکانزم سلامتی کونسل ایران کے متحدہ کی
پڑھیں:
فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
بدنام زمانہ جنسی اسکینڈل کے سرغنہ جیفری ایپسٹین کی طرح اس کا مبینہ ساتھی اور فرانسیسی ماڈل اسکاؤٹ ڈینیئل سیاد اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائے گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس میں ماڈل ڈینیئل سیاد کے خلاف جنسی زیادتی، انسانی اسمگلنگ اور خواتین کو دھوکے سے جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں شامل کرنے کے الزامات کی تحقیقات جاری تھیں تاہم ان پر ابھی تک باقاعدہ فردِ جرم عائد نہیں کی گئی تھی۔
فرانس میں مردہ پائے گئے ماڈل اسکأٹ ڈینیئل سیاد کی موت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب متعدد خواتین کو جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں پھانسنے اور انسانی اسمگلنگ سے متعلق سنگین الزامات کی تحقیقات جاری تھیں۔
فرانسیسی پراسیکیوٹر نے بتایا کہ 69 سالہ ڈینیئل سیاد کی لاش پیرس کے نواحی علاقے کولومب میں واقع ان کی رہائش گاہ سے برآمد ہوئی۔ موت کی وجوہات جاننے کے لیے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ فرانزک ٹیسٹس بھی کرائے جائیں گے تاکہ موت کی وجہ معلوم کی جاسکے۔
ڈینیئل سیاد پر الزام تھا کہ وہ ماڈلنگ کے شعبے سے وابستہ نوجوان خواتین کا تعارف جیفری ایپسٹین سے کراتا تھا۔
متعدد متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ سیاد نے انہیں ایپسٹین سے ملوایا جس کے بعد وہ مبینہ طور پر جنسی استحصال کا شکار ہوئیں۔
سیاد کے وکیل کا کہنا ہے کہ اگر پوسٹ مارٹم سے دل کا دورہ موت کی وجہ ثابت ہوتا ہے تو اس میں کئی برسوں سے جاری قانونی دباؤ، ذہنی تناؤ اور غیر یقینی صورتحال کا بھی کردار ہو سکتا ہے۔
ایپسٹین کیس سے منسلک متعدد خواتین نے ڈینیئل سیاد کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گواہی سے اس پورے نیٹ ورک کے بارے میں مزید اہم معلومات سامنے آ سکتی تھیں۔
سابق فرانسیسی ماڈل جولیٹ نے دعویٰ کیا کہ 2004 میں سیاد نے ان کا تعارف جیفری ایپسٹین سے کرایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سچ تک پہنچنے اور اس نیٹ ورک کے تمام کرداروں کو بے نقاب کرنے کی ایک اہم کڑی ختم ہوگئی۔
اسی طرح سابق سویڈش ماڈل ایبّا کارلسن نے بھی اس امید پر رواں برس فروری میں سیاد کے خلاف شکایت درج کرائی تھی کہ جلد گرفتاریاں ہوں گی اور انصاف ملے گا لیکن ان کی اچانک موت سے یہ امید کمزور پڑگئی ہے۔
خیال رہے کہ ماڈل سیاد کا اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انھیں ایپسٹین کی مجرمانہ سرگرمیوں کا علم نہیں تھا اور خود بھی وہ اس کے دھوکے کا شکار ہوئے۔
ڈینیئل سیاد کے وکیل مینیا عرب ٹیگرین کا کہنا تھا کہ فرانسیسی تفتیش کاروں نے ابھی تک سیاد سے باقاعدہ پوچھ گچھ نہیں کی تھی لیکن وہ اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے تیار تھے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق امریکی عدالت کی جانب سے جاری کی گئی تقریباً دو ہزار سے زائد دستاویزات میں بھی ڈینیئل سیاد کا نام سامنے آیا تھا۔
ان دستاویزات میں مبینہ طور پر بتایا گیا کہ سیاد مختلف ممالک کے دوروں کے دوران خواتین کی تصاویر اور معلومات ایپسٹین کو بھیجتے تھے۔
2014 کی ایک ای میل جو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنی تھی اس میں سیاد نے اپنی سرگرمیوں کو ماہی گیری سے تشبیہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ بعض اوقات شکار آسانی سے مل جاتا ہے اور بعض اوقات ایک بھی مچھلی ہاتھ نہیں آتی۔
استغاثہ نے اس زبان کو خواتین کی تلاش سے تعبیر کیا جبکہ سیاد نے اس کی مختلف تشریح پیش کی تھی۔
یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ جیفری ایپسٹین سے وابستہ کسی اہم شخصیت کی موت نے سوالات کو جنم دیا ہو وہ خود 2019 میں نیویارک کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے جہاں وہ جنسی اسمگلنگ کے مقدمے کا سامنا کر رہے تھے۔
امریکی حکام نے جیفری ایپسٹین کی موت کو خودکشی قرار دیا تھا تاہم اس پر آج بھی مختلف سوالات اور سازشی نظریات زیرِ بحث رہتے ہیں۔
اسی طرح ایک اور فرانسیسی ماڈلنگ ایجنٹ اور ایپسٹین کے قریبی ساتھی ژاں لوک برونیل بھی 2022 میں پیرس کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے۔ حکام نے ان کی موت کو بھی خودکشی قرار دیا تھا۔