چین میں کٹے ہوئے ناخن مہنگے داموں فروخت ہونے لگے!
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
کیا آپ بھی ناخن کاٹنے کے بعد انہیں فوراً کوڑے دان کی نذر کر دیتے ہیں؟ اگر ہاں، تو شاید آپ اپنی ایک قیمتی چیز کو ضائع کر رہے ہیں۔ حیران نہ ہوں، چین میں واقعی کٹے ہوئے انسانی ناخن سونے کی یمت میں بک رہے ہیں – اور اس کے پیچھے ایک حیران کن وجہ ہے!
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، چین میں تیار کی جانے والی روایتی ادویات میں انسانی انگلیوں کے ناخن استعمال کیے جا رہے ہیں۔ مقامی دوا ساز کمپنیاں اسکولوں اور دیہاتوں سے یہ ناخن خریدتی ہیں، انہیں اچھی طرح صاف کیا جاتا ہے، باریک پاؤڈر میں تبدیل کیا جاتا ہے، اور پھر مختلف بیماریوں خصوصاً بچوں کے پیٹ درد اور ٹانسلز کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی ادویات میں شامل کیا جاتا ہے۔
ایک بالغ شخص کے ناخن سالانہ اوسطاً صرف 100 گرام کے قریب بڑھتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ ایک محدود اور قیمتی ’’خام مال‘‘ بن چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی قیمت کافی زیادہ ہو چکی ہے۔
چینی میڈیا کے مطابق، ایک خاتون اپنے جمع کیے گئے ناخن 21 ڈالر فی کلوگرام کے حساب سے فروخت کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بچپن سے ہی اپنے ناخن جمع کرتی آ رہی ہیں اور یہ عادت اب ان کے لیے ایک منافع بخش ذریعہ بن چکی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 1960 کے بعد، جب نیل پالش کا استعمال بڑھا، تو روایتی ادویات میں ناخنوں کا استعمال کم ہو گیا تھا۔ تاہم، اب اس رجحان میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ دوا سازی کے لیے صرف ہاتھوں کے ناخن ہی قابلِ قبول سمجھے جاتے ہیں، پاؤں کے ناخن نہیں۔ خریداری سے قبل ناخنوں کو باریک بینی سے چیک کیا جاتا ہے اور مکمل صفائی کے بعد ہی دواؤں میں استعمال کے قابل سمجھا جاتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کیا جاتا ہے کے ناخن
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔