WE News:
2026-06-03@04:18:22 GMT

سیزیرین کے بعد طبعی زچگی اور مصنوعی دردِ زہ

اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT

جب بھی مریضہ یہ خواہش کرے کہ اسے زچگی کے طبعی عمل سے گزرنا ہے اور پچھلی زچگی سیزیرین کے ذریعے تھی، ڈاکٹر کے ذہن میں ایک لال بتی جلنے بجھنے لگتی ہے۔

سب سے پہلے تو گائناکالوجسٹ کو یہ جانچنا ہے کہ ایسا کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے یا نہیں؟ سب کچھ جانچ پڑتال کے بعد ویجائنل ڈلیوری کی اجازت دے دی جائے تب اگلا مرحلہ دردِ زہ شروع ہونے کا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: زچگی کے عمل کا دوسرا فریق

سیزیرین کے بعد والی زچگی میں اگر دردِ زہ قدرتی طریقے سے شروع ہوجائیں تو ڈاکٹر کے لیے یہ اطمینان کی بات ہوتی ہے کہ کم از کم اس ڈراؤنے خواب سے وہ بچ گئی جہاں مصنوعی دردِ زہ کے آغاز کا فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔

کیسے شروع کریں مصنوعی دردِ زہ؟

اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے ہمیں ماضی میں جھانکنا پڑے گا۔

قدیم مصر میں مصنوعی دردِ زہ کے لیے 2 طریقے مستعمل تھے، جڑی بوٹیوں کا استعمال اور بچہ دانی کے منہ یعنی سروکس کو کھولنے کی کوشش۔ دونوں طریقوں میں کامیابی کا عنصر مشکوک تھا اور زچہ کو کس تکلیف سے گزرنا پڑتا تھا، شاید اس کا اندازہ کوئی بھی نہیں لگا سکتا۔

16ویں، 17ویں صدی میں کچھ ایسی چیزوں کا ذکر ملتا ہے جن سے سروکس کو کھولنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ 20ویں صدی میں لیمینیریا ٹینٹ نامی لکڑی کا ٹکڑا سروکس میں رکھ دیا جاتا تھا جو آہستہ آہستہ پھول کر سروکس کو کھولنے کی کوشش کرتا۔

بیسویں صدی کو عورت پر رحم آیا اور 1935 میں پروسٹاگلینڈن (prostaglandin) نامی ہارمون کی شناخت ہوئی جو دردِ زہ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ لیکن اس ہارمون کو مزید 40 برس کا سفر طے کرنا پڑا، اور مسلسل تحقیق کے بعد پہلی دوا جس میں یہ ہارمون تھا، امریکا میں ایف ڈی اے نے 1977 میں منظور کی۔ لیکن تیسری دنیا تک اسے پہنچنے میں مزید کچھ برس انتظار کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ: قبل از وقت زچگی، ماؤں کی اموات میں اضافہ

ہمیں خوب یاد ہے کہ 1990 میں جب ہم ہاؤس جاب کررہے تھے، پروسٹن بنانے والی کمپنیاں فری سیمپل دیتیں اور ہم انہیں مریضوں میں استعمال کرتے۔ بخدا ہم اس وقت اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتے کہ ہمیں زندگی جینے کا موقع سائنس کی ترقی کے دور میں ملا ہے۔ لیکن ان سب عورتوں کا سوچ کر دل بیٹھ جاتا جو گئے زمانوں میں زچگی کے سفر میں زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔

پروسٹن (prostin) نامی دوا نے دردِ زہ کو آسان کردیا مگر ابھی بھی بہت کچھ تھا جہاں پروسٹن کے پر جلتے تھے اور آج بھی جل رہے ہیں۔

وہ مشکل مقام ہے اگر ایک پچھلی زچگی سیزیرین ہو اور اب مصنوعی دردِ زہ کے آغاز کا مرحلہ درپیش ہو۔

اگر بچہ دانی پر ایک سیزیرین ہوچکا ہو تو کٹی ہوئی جگہ کمزور پڑجاتی ہے اور اس کے بعد والی زچگی میں اگر مناسب نگہداشت نہ ہو تو بچہ دانی کے اس جگہ سے پھٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی یاد رکھیے کہ بچہ دانی پھٹنے کا خطرہ مصنوعی دردِ زہ میں زیادہ ہوتا ہے اور خاص طور پر اگر پروسٹن سے دردِ زہ کا آغاز کیا گیا ہو۔

اس لیے پروسٹن کو مصنوعی دردِ زہ میں استعمال کی اجازت صرف سینئر ڈاکٹرز کو دی جاتی ہے اور تب بھی ان کی مرضی پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ اسے استعمال کریں یا نہیں۔ بہت سے سینیئر ڈاکٹرز بھی اسے استعمال کرتے ہوئے ہچکچاتے ہیں کہ پیٹ کے اندر موجود بچہ دانی کیا کرے گی، کوئی نہیں جانتا۔

پھر کیا کیا جائے؟

سروکس کو کھولنے کے لیے لیمینیریا ٹینٹ جیسی ایک نالی ایجاد کی گئی ہے جو پیشاب نکالنے والی نالی جیسی ہے۔ اس نالی کو کُک بیلون (Cook Balloon) کا نام دیا گیا ہے۔ اس نالی کو سروکس میں ڈال کر اس کے ساتھ لگے غبارے کو پھلا دیا جاتا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں دردِ زہ کا آغاز ہونے کا احتمال ہوتا ہے۔

تیسری دنیا میں کُک بیلون کی قیمت اور اس کی افورڈیبیلٹی ایک مسئلہ بن جاتی ہے اس لیے کُک بیلون کی جگہ ایک ایسی نالی استعمال کی جاتی ہے جو مصنوعی دردِ زہ کے لیے نہیں بنی بلکہ مثانے سے پیشاب نکالنے کے لیے بنائی گئی ہے اور اسے فولی کیتھیٹر (Foley’s Catheter) کہا جاتا ہے۔

چونکہ فولی کیتھیٹر کی قیمت بہت کم ہے سو یہ کُک بیلون کا نعم البدل بن گیا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ کامیاب بھی ہے۔ پیشاب کی نالی کو سروکس میں داخل کیا جاتا ہے، اس کے ساتھ لگے غبارے کو پھلا کر 24 گھنٹے انتظار کیا جاتا ہے۔ اس غبارے کے پریشر سے سروکس نرم پڑ کر کھلنا شروع ہوجاتا ہے اور یوں زچگی کے عمل کا آغاز ہوتا ہے لیکن کچھ کیسز میں یہ ناکام بھی ہوجاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سیزیرین کے بعد ویجائنل ڈلیوری!

ایک سیزیرین کے بعد ہونے والی زچگی ایک مشکل اور خطرناک مرحلہ ہے۔ ضروری ہے کہ اسے کروانے والا ڈاکٹر تجربہ کار ہو اور انتہائی اہم بات یہ کہ زچگی کے پورے عمل میں سی ٹی جی مشین سے دردِ زہ ریکارڈ کیے جائیں۔

یاد رکھیے کہ ہر پیچیدگی اپنے ہونے سے پہلے خطرے کا سائرن بجاتی ہے اور اس سائرن کو بھانپتے ہوئے جان لیوا پیچیدگیوں سے بچا جاسکتا ہے۔ بچہ دانی بھی پھٹنے سے پہلے زور زور سے سائرن بجاتی ہے اور لال بتی بار بار جلتی بجھتی ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے جہاز کریش ہونے سے پہلے اشارہ دیتا ہے۔

کوئی بھی ایسی زچگی جس میں بچہ دانی پھٹنے کا خطرہ ہو وہ سی ٹی جی مشین کی مسلسل ریکارڈنگ کے بغیر نہیں کروانی چاہیے۔ سی ٹی جی پر ایسے نشان آجاتے ہیں جن سے پتا چل جاتا ہے کہ بچہ دانی خطرے میں ہے۔ لیکن سی ٹی جی پر وہ اشارہ صرف قابل ڈاکٹر ہی سمجھ سکتا ہے۔

ہم 2 چیزوں کی بات اس لیے کرتے ہیں کہ ہر زچہ اپنی ہر زچگی میں قابل ڈاکٹر اور اچھے اسپتال کا خرچہ نہیں اُٹھا سکتی۔ سو ان 2 کے بغیر زچگی کے عمل سے گزرنا موت کو دعوت دینا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

we news ڈاکٹر طاہرہ کاظمی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ڈاکٹر طاہرہ کاظمی سیزیرین کے بعد جاتی ہے اور ک ک بیلون بچہ دانی سی ٹی جی سے پہلے جاتا ہے زچگی کے کے ساتھ ہوتا ہے اور اس کے لیے

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی