WE News:
2026-07-24@09:56:21 GMT

سیزیرین کے بعد طبعی زچگی اور مصنوعی دردِ زہ

اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT

جب بھی مریضہ یہ خواہش کرے کہ اسے زچگی کے طبعی عمل سے گزرنا ہے اور پچھلی زچگی سیزیرین کے ذریعے تھی، ڈاکٹر کے ذہن میں ایک لال بتی جلنے بجھنے لگتی ہے۔

سب سے پہلے تو گائناکالوجسٹ کو یہ جانچنا ہے کہ ایسا کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے یا نہیں؟ سب کچھ جانچ پڑتال کے بعد ویجائنل ڈلیوری کی اجازت دے دی جائے تب اگلا مرحلہ دردِ زہ شروع ہونے کا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: زچگی کے عمل کا دوسرا فریق

سیزیرین کے بعد والی زچگی میں اگر دردِ زہ قدرتی طریقے سے شروع ہوجائیں تو ڈاکٹر کے لیے یہ اطمینان کی بات ہوتی ہے کہ کم از کم اس ڈراؤنے خواب سے وہ بچ گئی جہاں مصنوعی دردِ زہ کے آغاز کا فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔

کیسے شروع کریں مصنوعی دردِ زہ؟

اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے ہمیں ماضی میں جھانکنا پڑے گا۔

قدیم مصر میں مصنوعی دردِ زہ کے لیے 2 طریقے مستعمل تھے، جڑی بوٹیوں کا استعمال اور بچہ دانی کے منہ یعنی سروکس کو کھولنے کی کوشش۔ دونوں طریقوں میں کامیابی کا عنصر مشکوک تھا اور زچہ کو کس تکلیف سے گزرنا پڑتا تھا، شاید اس کا اندازہ کوئی بھی نہیں لگا سکتا۔

16ویں، 17ویں صدی میں کچھ ایسی چیزوں کا ذکر ملتا ہے جن سے سروکس کو کھولنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ 20ویں صدی میں لیمینیریا ٹینٹ نامی لکڑی کا ٹکڑا سروکس میں رکھ دیا جاتا تھا جو آہستہ آہستہ پھول کر سروکس کو کھولنے کی کوشش کرتا۔

بیسویں صدی کو عورت پر رحم آیا اور 1935 میں پروسٹاگلینڈن (prostaglandin) نامی ہارمون کی شناخت ہوئی جو دردِ زہ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ لیکن اس ہارمون کو مزید 40 برس کا سفر طے کرنا پڑا، اور مسلسل تحقیق کے بعد پہلی دوا جس میں یہ ہارمون تھا، امریکا میں ایف ڈی اے نے 1977 میں منظور کی۔ لیکن تیسری دنیا تک اسے پہنچنے میں مزید کچھ برس انتظار کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ: قبل از وقت زچگی، ماؤں کی اموات میں اضافہ

ہمیں خوب یاد ہے کہ 1990 میں جب ہم ہاؤس جاب کررہے تھے، پروسٹن بنانے والی کمپنیاں فری سیمپل دیتیں اور ہم انہیں مریضوں میں استعمال کرتے۔ بخدا ہم اس وقت اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتے کہ ہمیں زندگی جینے کا موقع سائنس کی ترقی کے دور میں ملا ہے۔ لیکن ان سب عورتوں کا سوچ کر دل بیٹھ جاتا جو گئے زمانوں میں زچگی کے سفر میں زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔

پروسٹن (prostin) نامی دوا نے دردِ زہ کو آسان کردیا مگر ابھی بھی بہت کچھ تھا جہاں پروسٹن کے پر جلتے تھے اور آج بھی جل رہے ہیں۔

وہ مشکل مقام ہے اگر ایک پچھلی زچگی سیزیرین ہو اور اب مصنوعی دردِ زہ کے آغاز کا مرحلہ درپیش ہو۔

اگر بچہ دانی پر ایک سیزیرین ہوچکا ہو تو کٹی ہوئی جگہ کمزور پڑجاتی ہے اور اس کے بعد والی زچگی میں اگر مناسب نگہداشت نہ ہو تو بچہ دانی کے اس جگہ سے پھٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی یاد رکھیے کہ بچہ دانی پھٹنے کا خطرہ مصنوعی دردِ زہ میں زیادہ ہوتا ہے اور خاص طور پر اگر پروسٹن سے دردِ زہ کا آغاز کیا گیا ہو۔

اس لیے پروسٹن کو مصنوعی دردِ زہ میں استعمال کی اجازت صرف سینئر ڈاکٹرز کو دی جاتی ہے اور تب بھی ان کی مرضی پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ اسے استعمال کریں یا نہیں۔ بہت سے سینیئر ڈاکٹرز بھی اسے استعمال کرتے ہوئے ہچکچاتے ہیں کہ پیٹ کے اندر موجود بچہ دانی کیا کرے گی، کوئی نہیں جانتا۔

پھر کیا کیا جائے؟

سروکس کو کھولنے کے لیے لیمینیریا ٹینٹ جیسی ایک نالی ایجاد کی گئی ہے جو پیشاب نکالنے والی نالی جیسی ہے۔ اس نالی کو کُک بیلون (Cook Balloon) کا نام دیا گیا ہے۔ اس نالی کو سروکس میں ڈال کر اس کے ساتھ لگے غبارے کو پھلا دیا جاتا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں دردِ زہ کا آغاز ہونے کا احتمال ہوتا ہے۔

تیسری دنیا میں کُک بیلون کی قیمت اور اس کی افورڈیبیلٹی ایک مسئلہ بن جاتی ہے اس لیے کُک بیلون کی جگہ ایک ایسی نالی استعمال کی جاتی ہے جو مصنوعی دردِ زہ کے لیے نہیں بنی بلکہ مثانے سے پیشاب نکالنے کے لیے بنائی گئی ہے اور اسے فولی کیتھیٹر (Foley’s Catheter) کہا جاتا ہے۔

چونکہ فولی کیتھیٹر کی قیمت بہت کم ہے سو یہ کُک بیلون کا نعم البدل بن گیا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ کامیاب بھی ہے۔ پیشاب کی نالی کو سروکس میں داخل کیا جاتا ہے، اس کے ساتھ لگے غبارے کو پھلا کر 24 گھنٹے انتظار کیا جاتا ہے۔ اس غبارے کے پریشر سے سروکس نرم پڑ کر کھلنا شروع ہوجاتا ہے اور یوں زچگی کے عمل کا آغاز ہوتا ہے لیکن کچھ کیسز میں یہ ناکام بھی ہوجاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سیزیرین کے بعد ویجائنل ڈلیوری!

ایک سیزیرین کے بعد ہونے والی زچگی ایک مشکل اور خطرناک مرحلہ ہے۔ ضروری ہے کہ اسے کروانے والا ڈاکٹر تجربہ کار ہو اور انتہائی اہم بات یہ کہ زچگی کے پورے عمل میں سی ٹی جی مشین سے دردِ زہ ریکارڈ کیے جائیں۔

یاد رکھیے کہ ہر پیچیدگی اپنے ہونے سے پہلے خطرے کا سائرن بجاتی ہے اور اس سائرن کو بھانپتے ہوئے جان لیوا پیچیدگیوں سے بچا جاسکتا ہے۔ بچہ دانی بھی پھٹنے سے پہلے زور زور سے سائرن بجاتی ہے اور لال بتی بار بار جلتی بجھتی ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے جہاز کریش ہونے سے پہلے اشارہ دیتا ہے۔

کوئی بھی ایسی زچگی جس میں بچہ دانی پھٹنے کا خطرہ ہو وہ سی ٹی جی مشین کی مسلسل ریکارڈنگ کے بغیر نہیں کروانی چاہیے۔ سی ٹی جی پر ایسے نشان آجاتے ہیں جن سے پتا چل جاتا ہے کہ بچہ دانی خطرے میں ہے۔ لیکن سی ٹی جی پر وہ اشارہ صرف قابل ڈاکٹر ہی سمجھ سکتا ہے۔

ہم 2 چیزوں کی بات اس لیے کرتے ہیں کہ ہر زچہ اپنی ہر زچگی میں قابل ڈاکٹر اور اچھے اسپتال کا خرچہ نہیں اُٹھا سکتی۔ سو ان 2 کے بغیر زچگی کے عمل سے گزرنا موت کو دعوت دینا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

we news ڈاکٹر طاہرہ کاظمی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ڈاکٹر طاہرہ کاظمی سیزیرین کے بعد جاتی ہے اور ک ک بیلون بچہ دانی سی ٹی جی سے پہلے جاتا ہے زچگی کے کے ساتھ ہوتا ہے اور اس کے لیے

پڑھیں:

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔

یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔

ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔

خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔

وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔

زیارت کیوں بھیجا گیا

اصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔

شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔

تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے

36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔

کراچی، وہ بھی ستمبر میں

اب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔

اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔

ایمبولینس کا قصہ

اب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟

اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے

مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟

میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔

کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائد

ہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔

سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔

حرفِ آخر

صاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔

مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔

ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔

میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی

متعلقہ مضامین

  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ