پاکستان کی بات اس وقت دنیا سن رہی ہے، پاکستان کیلئے یہ بہترین وقت ہے: مشاہد حسین سید
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
---فائل فوٹو
سینئر سیاستدان مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ 50 سال کے بعد پاکستان کی اہمیت دنیا کے سامنے اُجاگر ہوئی ہے، پاکستان کی بات اس وقت دنیا سن رہی ہے، پاکستان کے لیے یہ بہترین وقت ہے۔
لاہور میں تقریب سے خطاب کے دوران مشاہد حسین نے کہا کہ مغرب نے دوسری جنگ عظیم کے بعد جو نظام بنایا تھا اس کا خاتمہ ہونے جا رہا ہے، طاقت کا توازن شفٹ ہو رہا ہے، نئے عالمی آرڈر میں کوئی ایک سپر پاور نہیں رہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ قائداعظم نے خط میں امریکا کو کہا تھا اسرائیل فتنہ ہے اس کو نہ بننے دے، دنیا اسرائیل کی مخالفت کر رہی ہے، اسرائیل کے اپنے لوگ کہہ رہے ہیں کہ فلسطین کی جنگ کو بند کیا جائے۔
مشاہد حسین کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو بھارت نے اس کو سپورٹ کیا، بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو اسرائیل نے اس کی مدد کی، اسرائیل نے قطر پر حملہ کر کے ریڈ لائن کراس کی۔
اِن کا کہنا تھا کہ جس دن امریکا افغانستان سے بھاگا اس دن سے ان کا خاتمہ شروع ہوا ہے، پاکستان اور دنیا کو افغانستان سے شکایت ہے کہ اس کی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا نے نائن الیون کے بعد جنگوں میں اپنا وقت ضائع کیا، آٹھ ٹریلین ڈالر ضائع کیے، ایک ملین مسلمان شہید ہوئے، تین کروڑ لوگ بے گھر ہوئے، 3 لاکھ بم اور میزائل پھینکے۔
مشاہد حسین سید نے کہا کہ چائنہ پچھلے تین سو سال سے مغرب کو تمام شعبوں میں چیلنج کر رہا ہے، چائنہ ایک تاریخی تبدیلی کی جانب گامزن ہے، چائنہ نے دنیا کا سب سے بڑا پروگرام ون بیلٹ ون روڈ پروگرام شروع کیا۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ چاہتا تھا حماس سے بات کی جائے لیکن اسرائیلی لابی اسے بلیک میل کر رہی ہے، دنیا بہت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پاکستان کی مشاہد حسین نے کہا کہ رہی ہے
پڑھیں:
خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
اسحاق ڈار---فائل فوٹونائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔