واٹس ایپ نے اسٹیٹس شیئرنگ کے لیے نئے فیچرز متعارف کروا دیے
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
واٹس ایپ نے اسٹیٹس شیئرنگ کے لیے نئے فیچرز متعارف کروا دیے ہیں، اختیارات متعارف کرا دیے ہیں، نئی اپ ڈیٹ میں اسٹیٹس لے آؤٹ کو تبدیل کیا گیا ہے اور ویو کاؤنٹ کو بائیں جانب منتقل کر دیا گیا ہے، جو انسٹاگرام اسٹوریز سے مشابہت رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ اسٹیٹس پر طویل وائس نوٹ لگانا اب ممکن
میٹا کی ملکیتی اس میسجنگ ایپ نے اسٹیٹس اسکرین کے دائیں طرف دو بٹن بھی شامل کیے ہیں جن کی مدد سے صارفین اپنے اسٹیٹس براہِ راست فیس بک یا انسٹاگرام پر شیئر کر سکیں گے۔ یہ فیچر ٹیکسٹ بیسڈ اسٹیٹس کے لیے بھی دستیاب ہے۔
واٹس ایپ کے مطابق نئے شیئرنگ بٹن استعمال کرنے کے لیے صارفین کو اپنے اکاؤنٹ کو میٹا کے اکاؤنٹ سینٹر سے لنک کرنا ہوگا، تاہم یہ اقدام مکمل طور پر اختیاری ہے اور صارف جب چاہے اپنا اکاؤنٹ لنک یا ان لنک کرسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ نے اسٹیٹس شیئر کا نیا فیچر متعارف کرا دیا
کمپنی نے وضاحت کی ہے کہ چاہے اکاؤنٹ لنک کیا جائے یا نہیں، واٹس ایپ کے تمام پیغامات اور کالز اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ رہیں گے اور صارفین کی پرائیویسی و سیکیورٹی متاثر نہیں ہوگی۔
فی الحال یہ فیچر اینڈرائیڈ کے تازہ ترین بیٹا ورژن استعمال کرنے والے صارفین کے لیے دستیاب ہے جبکہ آئندہ اپ ڈیٹس میں مزید صارفین کو بھی فراہم کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسٹیٹس لنک میٹا واٹس ایپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹیٹس میٹا واٹس ایپ ایپ نے اسٹیٹس واٹس ایپ کے لیے
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔