غزہ میں وحشیانہ اسرائیلی بمباری، ایک ہی خاندان کے 25 افراد شہید
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
غزہ میں وحشیانہ اسرائیلی بمباری، ایک ہی خاندان کے 25 افراد شہید WhatsAppFacebookTwitter 0 22 September, 2025 سب نیوز
غزہ شہر کے صابرہ محلے میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 25 افراد شہید ہوگئے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اب تک 55 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جبکہ درجنوں افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے صابرہ محلے میں کئی گھروں کو نشانہ بنایا۔ امدادی کارکن اور مقامی لوگ ہاتھوں سے ملبہ ہٹا کر زندہ افراد کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اب بھی ملبے کے نیچے سے زندہ لوگوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ اسرائیلی ڈرونز امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں اور فائرنگ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان نے عالمی برادری سے فوری مدد کی اپیل کی ہے۔
وسطی غزہ کے بریج پناہ گزین کیمپ میں بھی اسرائیلی فضائی حملے میں سات فلسطینی شہید ہوئے جن میں چار بچے شامل تھے۔ یہ حملہ اقوام متحدہ کے ایک کلینک کے قریب ہوا۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک 65 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 66 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ وزارت کا کہنا ہے کہ غذائی قلت اور قحط کے باعث بھی اب تک 440 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جن میں 147 بچے شامل ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربگرام ایئربیس کیلئے اگلے 20 برس جنگ لڑنے کو تیار ہیں، افغان حکومت کا ٹرمپ کی دھمکیوں پر جواب بگرام ایئربیس کیلئے اگلے 20 برس جنگ لڑنے کو تیار ہیں، افغان حکومت کا ٹرمپ کی دھمکیوں پر جواب نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نیویارک پہنچ گئے افغانستان کی دہشت گردی کے حوالے سے دوغلی پالیسی بے نقاب پہلی بار برطانیہ نے فلسطین کو اپنے سرکاری نقشوں میں شامل کرلیا امریکا نے برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا نمائشی اقدام قرار دیدیا برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کے بعد پرتگال نے بھی فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرلیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔