‘میری زندگی کا ساتھی، میرا بھانجا، میرا داماد ، وہ اب پوری قوم کا فخر ہے’
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
2 ستمبر 2025 کو خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں ایک فوجی مرکز پر حملے کے دوران سیکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان شدید جھڑپ میں پاک فوج کے اسپیشل سروسز گروپ یعنی ایس ایس جی کے افسرمیجرعدنان اسلم شہید ہوگئے۔
واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں میجر عدنان اسلم کو اپنے ایک زخمی ساتھی کی مدد کرتے ہوئے دیکھا گیا، ویڈیو وائرل ہونے کے بعد مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین نے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے حکومت سے انہیں نشانِ حیدر سے نوازنے کا مطالبہ بھی کیا۔
ملک بھر میں سوشل میڈیا پرمیجرعدنان اسلم کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے، جب کہ سیاسی و عسکری قیادت کی جانب سے بھی واقعے کی مذمت اور اہلِ خانہ سے اظہار تعزیت کیا گیا ہے۔
میجر عدنان شہید کی زندگی، بچپن اور ان کی فیملی کے حوالے سے جاننے کے لیے وی نیوز نے میجر عدنان کے ماموں فرمان احمد سے گفتگو کی، جنہوں نے شہید میجر کے ساتھ زندگی کےکئی ایڈونچرکیے اور نیا رشتہ بھی بنایاتھا۔
فرمان احمد کے مطابق میجر عدنان اسلم بچپن سے ہی غیرمعمولی صلاحیتوں کے مالک تھے اور جو کچھ ایک تربیت یافتہ کمانڈو کرتا ہے، وہ سب عدنان نے بہت پہلے ہی سیکھ لیا تھا۔
’میرے عدنان سے رشتے تھے، وہ سب سے پہلے میرا بھانجا تھا، پھر میرا شاگرد، دوست اورمیرا داماد بھی تھا، ہم نے پیراگلائڈنگ، راک کلائمبنگ اور باکسنگ جیسے زندگی کے کئی ایڈونچرساتھ کیے، شاید ہی کوئی خطرناک کام ہو جو ہم نے ایک ساتھ نہ کیا ہو۔‘
بچپن سے لیڈرشپ اور ذہانت کی جھلکعدنان کے بچپن کو یاد کرتے ہوئے فرمان احمد نے بتایا کہ وہ بچپن میں بہت شرارتی، محنتی اور ذہین تھے، جس کا کراٹے میں جنون قابلِ دید تھا۔
’اپنے کزنز میں سب سے آگے رہتا، نیشنل لیول پرجونیئراورسینیئردونوں کیٹیگریزمیں پہلی پوزیشنز حاصل کیں، اور پاکستان کی نمائندگی بین الاقوامی مقابلوں میں بھی کی۔‘
عدنان کی ذہانت اور تجسس کو بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اسے مشینیں کھولنے، چیزوں کو جوڑنے، خراب چیزوں کو درست کرنے کا جنون تھا۔ گھر میں کوئی بھی مشکل چیز ہوتی، سب کہتے تھے عدنان کو دے دو، وہ ٹھیک کر دے گا۔
’وہ شہید ہے اور شہید زندہ ہوتے ہیں‘انٹرویو کے دوران ایک موقع پر ان کی آواز شدت جذبات سے بھرا گئی لیکن ان کے الفاظ میں ایک عجیب سا سکون تھا، انہوں نے صرف ایک داماد نہیں کھویا بلکہ ایک بیٹا اور بھانجا بھی کھویا ہے۔
’۔۔۔لیکن ہمارا ایمان ہے کہ شہید زندہ ہوتے ہیں، لوگ افسوس کے لیے آتے ہیں، مگر ہم انہیں کہتے ہیں کہ افسوس نہ کریں، مبارک دیں۔ اس نے پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔‘
شہید عدنان کے بچے اور خاندانمیجر عدنان کے دو بچے ہیں، ایک بیٹا جس کی عمر صرف اڑھائی سال ہے، اور ایک ننھی بیٹی جو محض 6 سے 7 ماہ کی ہے۔ ’ہم عدنان کے بچوں کی پرورش بھی اسی جذبے سے کریں گے کہ وہ بھی اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلیں گے۔‘
یادیں، دعائیں اور بہادری کا ورثہاپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے فرمان احمد کہتے ہیں کہ شہید عدنان کی یاد تو بہت آتی ہیں اور اتنی شدت سے آتی ہے کہ نیند روٹھ جاتی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ خواب میں آئے گا، مگر خواب تب آتے ہیں جب نیند آئے۔
’۔۔۔لیکن ہمیں خوشی ہے کہ اس نے بہت شان سے زندگی گزاری اور شاندار شہادت پائی، اس کی بہادری نے ہمیں بھی حوصلہ دیا ہے۔‘
آخری ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے فرمان احمد مسکرادیے اور بولے کہ عدنان سے ہر ملاقات ہماری آخری ملاقات لگتی تھی، کیونکہ وہ ایک عام فوجی نہیں تھا۔ وہ ہر وقت ایک مشن پر، ایک جذبے کے ساتھ جیتا تھا۔
’وہ اللہ سے ہمیشہ شہادت کی دعا کرتا تھا اور رب نے اس کی خواہش پوری کی، میں نے بہت دعائیں کیں کہ اسے کچھ نہ ہو، مگر اللہ کی رضا سب سے بہتر ہے۔‘
فرمان احمد کے الفاظ میں ایک باپ کا درد، ایک دوست کی محبت اور ایک استاد کا فخر جھلک رہا تھا، جب انہوں نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ شہید عدنان نے اپنی زندگی ایک مقصد کے تحت گزاری۔
’وہ ہمیں نظر نہیں آتا، مگر ہر پل ہمارے دلوں اور یادوں میں زندہ ہے۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنوں خیبر پختونخوا شہید عدنان اسلم فرمان احمد میجر عدنان اسلم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا شہید عدنان اسلم شہید عدنان کرتے ہوئے عدنان کے ہیں کہ
پڑھیں:
مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
ویب ڈیسک : مستونگ میں ہونے والے قاتلانہ حملے میں سیشن جج مستونگ عبدالحکیم کاکڑ اور گن مین شہید ہو گئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری شدید زخمی ہوئے۔
حکومت بلوچستان نے مستونگ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حکم دے دیاہے۔ معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کا کہنا ہے کہ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کی شہادت انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کے مطابق وکلاء اور ججز کو نشانہ بنانا ایک گہری سازش کا حصہ ہے،دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے مستونگ حملے میں زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سے رابطہ کرکے ان کی خیریت دریافت کی اوران کی مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیاہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ قانون کے محافظوں پر حملہ ناقابل برداشت ہے، ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا،حکومت عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہر قدم پر کھڑی ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ