اوپن اے آئی کا چیٹ جی پی ٹی میں پلس فیچر متعارف، چیٹ بوٹ اب متحرک اسسٹنٹ میں تبدیل ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سان فرانسسکو: اوپن اے آئی نے اپنے مشہور چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی میں “پلس” (Pulse) نامی نیا فیچر شامل کر دیا ہے، جس کے تحت صارفین کو ایک زیادہ ذاتی نوعیت کا اور مربوط تجربہ فراہم کیا جائے گا۔
آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کی کمپنی اوپن اے آئی کے مطابق یہ فیچر صارف کی حالیہ چیٹس، ہسٹری، فیڈ بیک اور منسلک ایپس جیسے گوگل کیلنڈر کو مدنظر رکھتے ہوئے نتائج فراہم کرے گا۔ روایتی جوابات کے بجائے چیٹ جی پی ٹی اب تصویری کارڈز کی صورت میں معلومات دے گا، جنہیں صارف اسکین کرسکیں گے یا تفصیل سے کھول سکیں گے۔
پہلے مرحلے میں یہ سہولت صرف چیٹ جی پی ٹی پرو صارفین کو موبائل ایپ پر دستیاب ہوگی، تاہم اوپن اے آئی نے واضح کیا ہے کہ اسے جلد ہی بڑے پیمانے پر عام صارفین تک بھی پہنچایا جائے گا۔ ہر صارف کو روزانہ ایک “پلس” موصول ہوگا، جو ان کی چیٹ ہسٹری اور فیڈ بیک کی بنیاد پر تیار کیا جائے گا۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ فیچر چیٹ جی پی ٹی کے “کنکشنز” آپشن کے ذریعے گوگل ڈرائیو، جی میل اور گوگل کیلنڈر سے بھی منسلک ہوسکے گا، تاکہ صارفین اپنی روزمرہ کی ضروریات کو بہتر طریقے سے منظم کر سکیں۔ “پلس” کے تمام موضوعات پر سخت حفاظتی فلٹرز اور ٹولز استعمال کیے جائیں گے تاکہ کسی نقصان دہ یا غیر موزوں مواد کی نشاندہی نہ ہو۔
اوپن اے آئی کے مطابق یہ صرف آغاز ہے، مستقبل میں پلس فیچر کے ذریعے ای میل، کیلنڈر کے ساتھ ساتھ مزید نئے ڈیٹا اسٹریمز بھی چیٹ جی پی ٹی سے منسلک کیے جائیں گے، جس سے یہ پلیٹ فارم ایک عام چیٹ بوٹ سے بڑھ کر ایک مکمل ڈیجیٹل اسسٹنٹ کی صورت اختیار کر لے گا۔
ویب ڈیسک
دانیال عدنان
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چیٹ جی پی ٹی اوپن اے آئی
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔