Juraat:
2026-06-03@02:18:55 GMT

پاکستان کی آدھی معیشت سیلابی خطرات کی زد میں ہونے کا انکشاف

اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT

پاکستان کی آدھی معیشت سیلابی خطرات کی زد میں ہونے کا انکشاف

سیلابی خطرات سے دوچار علاقوں کا جی ڈی پی میں حصہ 50 فیصد ہے سیلابی خطرات سے دوچار
کراچی سیلابی خطرات کی زد میں جی ڈی پی میں حصہ 20 فیصد ہے،وزارت پلاننگ کی دستاویز
پاکستان کی آدھی معیشت سیلابی خطرات کی زد میں ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔وزارت پلاننگ کی دستاویز کے مطابق سیلابی خطرات سے دوچار علاقوں کا جی ڈی پی میں حصہ 50 فیصد ہے سیلابی خطرات سے دوچار لاہور کا ملکی جی ڈی پی میں حصہ 11.

5 فیصد ہے۔کراچی بھی سیلابی خطرات کی زد میں ہے جہاں جی ڈی پی میں حصہ 20 فیصد ہے جب کہ پشاور، ملتان اور کوئٹہ کا بھی سیلابی خطرات کی زدمیں ہونیکا انکشاف ہوا ہے۔اسلام آباد اور پشاور بھی سیلابی خطرات کی زد میں ہیں۔ پشاور کا جی ڈی پی 2 فیصد، ملتان 3 فیصد، کوئٹہ کا 1.1فیصد حصہ ہے۔اسلام آباد، راولپنڈی ملکی جی ڈی پی میں 2.3 فیصد تک حصہ ڈال رہے ہیں۔دستاویزا کے مطابق ان شہروں میں بڑے سیلاب کی صورت میں معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے اربن فلڈنگ اور دریائی سیلاب کے خطرات سے یہ شہر انتہائی حساس بن چکے ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: سیلابی خطرات کی زد میں جی ڈی پی میں حصہ فیصد ہے

پڑھیں:

اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔

اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔

انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔

سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا