ٹرمپ کی افغانستان سے بگرام ائیر بیس واپس لینے کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
واپس نہ کیا تو سنگین نتائج ہوں گے، اب کسی کو امریکا سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
دنیا میں سات بڑی جنگیں رکوا کر امن قائم کرنے میں کردار ادا کیا، امریکی صدر کاتقریب سے خطاب
ورجینیا (مانیٹرنگ ڈیسک)افغانستان کے بارے میں بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے سخت موقف اپنایا اور کہا کہ اگر کابل نے بگرام ایٔربیس امریکا کو واپس نہ کیا تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ورجینیا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے پاکستان، بھارت، ایران اور اسرائیل سمیت دنیا میں سات بڑی جنگیں رکوا کر عالمی سطح پر امن قائم کرنے میں کردار ادا کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی بی ٹو بمبار طیاروں نے ایران میں نیوکلیٔر سائٹس کو تباہ کر دیا ہے تاکہ دنیا کو خطرناک ہتھیاروں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ٹرمپ نے یورپی ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب بھی روس سے تیل خرید رہے ہیں، جو ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا میں مہنگی ادویات اور منشیات کی فروخت جاری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اب کسی کو امریکا سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ مختلف ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے سے امریکا کو اربوں ڈالرز کا فائدہ ہو رہا ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ آٹزم سے متعلق ایک اہم پالیسی بیان پیر کے روز سامنے لایا جائے گا۔ٹرمپ نے وینزویلا کو خبردار کیا کہ اگر امریکا سے ملک بدر کئے گئے قیدی واپس نہ لیے گئے تو اسے ناقابل حساب قیمت چکانا پڑے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وینزویلا نے امریکا کو ذہنی مریض بھیجے ہیں جو کسی صورت قابل برداشت نہیں۔خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے اپنے حالیہ دورہ برطانیہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شاہ چارلس ایک بہترین انسان ہیں اور ان کے دورے کے دوران امریکا کی عزت و وقار میں اضافہ ہوا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔