جاز کا پاکستان میں آئی فون 17 متعارف کرانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر)جاز پاکستان میں ایپل کے مجاز ڈسٹری بیوٹر مرکنٹائیل کی شراکت داری سے پاکستان میں عنقریب آئی فون 17 متعارف کروا رہا ہے۔ اس اشتراک کے ذریعے صارفین کو نیا آئی فون مکمل ریگولیٹری کمپلائنس، آفیشل وارنٹی اور پریمیم ویلیو ایڈڈ سروسز کے ساتھ فراہم کیا جائے گا۔اس لانچ کے ساتھ جاز ایک خصوصی بنڈل پیش کرے گا ہے جس میں ایک سال کے لیے ایک ٹیرا بائٹ ہائی اسپیڈ ڈیٹا، ایک مفت تحفہ*، مرکنٹائیل کے زریعے دو سالہ وارنٹی کوریج (ایک اسٹینڈرڈ اور ایک ایکسٹینڈڈ، جو غیر آفیشل ہینڈ سیٹس میں دستیاب نہیں)، اور مرکنٹائل کیئر آفٹر-سیلز نیٹ ورک کے ذریعے ایپل کی وقف سروس سپورٹ شامل ہے تاکہ صارفین کو قابلِ اعتماد معاونت مل سکے۔شراکت داری پر تبصرہ کرتے ہوئے جاز کے صدر کنزیومر ڈویڑن، کاظم مجتبیٰ نے کہا: ‘‘جاز میں ہم اپنے صارفین کو اعتماد اور سہولت کے ساتھ بہترین ٹیکنالوجی کا تجربہ فراہم کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ مرکنٹائل کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ہم یہ یقینی بنا رہے ہیں کہ آئی فون 17 نہ صرف زیادہ قابلِ رسائی ہو بلکہ بھروسے اور طویل مدتی سپورٹ کی ضمانت کے ساتھ دستیاب ہو۔ یہ پاکستان میں عالمی معیار کے ڈیجیٹل تجربات لانے کے ہمارے سفر میں ایک اور قدم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان میں ا ئی فون کے ساتھ
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ