Juraat:
2026-07-24@01:28:24 GMT

لکی مروت: سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 2 دہشتگرد ہلاک،2 گرفتار

اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT

لکی مروت: سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 2 دہشتگرد ہلاک،2 گرفتار

ہلاک دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تنظیم سے تھا، اسلحہ اور گولہ بارود برآمد، آپریشن کے بعد علاقہ کو کلیٔر ہوگیا
اگست گزشتہ دہائی کا بدترین مہینہ ثابت ،جولائی کے مقابلے میں 74 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا،سکیورٹی ذرائع
صوبہ خیبرپختونخواہ کے علاقہ لکی مروت میں سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی میں 2 دہشت گردوں مارے گئے اس دوران 2 کو زندہ گرفتار کرلیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لکی مروت میں سکیورٹی فورسزکی جانب سے کی جانے والی کارروائی کے نتیجے میں 2 دہشت گرد ہلاک ہوئے اور 2 کی گرفتاری عمل میں لائی گئی، ہلاک دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تنظیم سے تھا، جن سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کرلیا گیا، آپریشن کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقہ کو کلیٔر کردیا۔بتایا جارہا ہے کہ حالیہ مہینوں کے دوران ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں تیزی آچکی ہے جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے آپریشنز کی تعداد بھی بڑھادی ہے کیوں کہ اگست 2025ء پاکستان میں دہشت گرد حملوں کے حوالے سے دہائی کا بدترین مہینہ ثابت ہوا جہاں جولائی کے مقابلے میں دہشت گردوں کے حملوں میں 74 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا، 143 دہشت گرد حملوں کے ساتھ اگست گزشتہ دہائی کا سب سے مہلک مہینہ ثابت ہوا جب فروری 2014ء کے بعد سب سے زیادہ دہشت گرد کارروائیاں ہوئیں۔معلوم ہوا ہے کہ بدامنی کی اس لہر کے نتیجے میں 194 افراد لقمہ اجل بن گئے جن میں 73 سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں جب کہ 62 شہری، 58 عسکریت پسند اور ایک سرکاری حمایت یافتہ امن کمیٹی کا رکن اس فہرست کا حصہ ہے، اس دوران 231 افراد زخمی ہوئے، جن میں 129 سکیورٹی اہلکار، 92 شہری، 8 عسکریت پسند اور 2 امن کمیٹی کے رکن شامل ہیں، اس دوران عسکریت پسندوں کی طرف سے کم از کم 10 افراد کو اغواء بھی کیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: سکیورٹی فورسز کے بعد

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار