گارڈن میں مین ہول کی صفائی کے دوران 3 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) شہر قائد کے علاقے گارڈن، عثمان آباد میں ایک گٹر کی صفائی کے دوران 3 خاکروب افسوس ناک طور پر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے عثمان آباد میں گٹر کی صفائی کے دوران مین ہول میں گر کر تین افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جن کی لاشیں نکال کر اسپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ گارڈن، عثمان آباد میں گٹر کی صفائی کے دوران 4 افراد گر گئے تھے، جن میں سے علاقہ مکینوں نے ایک شخص کو بے ہوشی کی حالت میں نکال لیا تھا، تاہم باقیوں کو بروقت نہیں نکالا جا سکا۔۔ ترجمان ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 19 سالہ شاہد ولد خورشید اور 42 سالہ جورج ولد نامعلوم شامل ہیں۔ تینوں افراد کی لاشوں کو ایدھی ایمبولینس کے ذریعے سول اسپتال کے ٹراما سینٹر منتقل کردیا گیا۔ ایس ایچ او تھانہ گارڈن کے مطابق واقعہ دم گھٹنے کے باعث پیش آیا۔ ایک خاکروب کی حالت غیر دیکھ کر گٹر میں جانے والا دوسرا خاکروب بھی گٹر میں بھرنے والی گیسز کے نتیجے میں دم گھٹنے سے ہلاک ہوا جبکہ اب انکو بچانے کی کوشش کرنے والے دو افراد میں سے ایک شخص جان کی بازی ہار گیا جبکہ دوسرا بے ہوش ہوا جسکو سول اسپتال میں طبی امداد دی جارہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی صفائی کے دوران
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔