کسی بھی بیرونی جارحیت کا جواب سخت اور شدید ہوگا: ڈی جی آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
—فائل فوٹو
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاک فوج دفاع وطن کے لیے پُرعزم ہے، کسی بھی بیرونی جارحیت کا جواب سخت اور شدید ہوگا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایبٹ آباد میں اساتذہ اور طلباء سے حالیہ پاک افغان کشیدگی اور ملکی سیکیورٹی صورتِ حال پر گفتگو کی۔
انہوں نے معرکہ حق سمیت اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی اور فتنہ الخوارج کے خلاف مؤثر اقدامات کیے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے زیر اہتمام جاری انٹرن شپ پروگرام میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی طلباء کے ساتھ خصوصی نشست ہوئی۔
اس موقع پر اساتذہ اور طلباء کی جانب سے شہداء اور غازیان کو زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا۔
ہزارہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے کہا کہ وطن سے محبت کا درست استعارہ پاک فوج ہے۔
اساتذہ نے کہا کہ ہمارے بچوں کے ذہنوں کو گمراہ کرنے کے لیے دشمن عناصر کی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔
اس موقع پر طلباء نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمیں پاک فوج کے خلاف پھیلائی جانے والی غلط باتوں سے متعلق درست معلومات ملیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ڈی جی ا ئی ایس پی ا ر کہا کہ
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔