ایم کیو ایم کے سابق رکن صوبائی اسمبلی کامران فاروقی کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
کراچی:
گارڈن پولیس نے ایم کیو ایم پاکستان کے سابق رکن صوبائی اسمبلی کامران فاروقی کے خلاف پیکا ایکٹ اور سنگین نتائج کی دھمکی دینے کی دفعہ کے تحت سرکار کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا ہے۔
اس حوالے سے گارڈن تھانے میں پولیس افسر راؤ محمد شاہ رخ کی مدعیت میں مقدمہ نمبر 454 سال 2025 بجرم دفعات 506 بی اور پیکا ایکٹ کے تحت درج کرلیا۔
جس میں مدعی مقدمہ نے بیان دیا ہے کہ وہ گارڈن تھانے میں بحیثیت لنک ڈیوٹی افسر اور ڈیوٹی پر موجود تھا جبکہ میرے ساتھ سب انسپکٹر ظفر اقبال بھی ڈیوٹی پر تھے، شام 6 بجے کے قریب میں نے اپنے موبائل فون پر فیس بک کے سوشل میڈیا پیج ذرائع نیوز پر ایک ویڈیو دیکھی۔
جس میں کامران فاروقی نامی نے شخص یہ الفاظ ادا کیے کہ آج اس کی خوش قسمتی تھی اس بدبخت کی کہ یہ چند لمحوں پہلے نکل گیا ورنہ یہ آج اپنی گاڑی سمیت جلتا یہ عوامی ردعمل ہے آج ایک بچے کی اس نے روندا ایک ڈمپر نے جس کی شادی۔
مدعی کے مطابق جبکہ اسی خبر کے نیچے تحریر ہے کہ لیاقت محسود کی خوش قسمتی تھی جو چند لمحوں قبل بچ گیا ورنہ آج اپنی گاڑی سمیت جلتا (کامران فاروقی) یہ خبر میں نے اور اپنے ہمراہ ڈیوٹی افسر نے بھی سنی اور پڑھی۔
مدعی کے مطابق چونکہ گزشتہ رات ایک ڈمپر نمبر ٹی اے ایم 812 کے ڈرائیور نے نشتر روڈ رامسوامی علاقہ تھانہ گارڈن میں شاہ زیب نامی موٹر سائیکل سوار کو ٹکر مار کر ہلاک اور اس کی اہلیہ کو زخمی کیا اس واقعے کے بعد لوگوں نے ڈمپر کو آگ لگا دی تھی۔
بعدازاں ڈمپر ایسوسی ایشن کا صدر لیاقت محسود ہمراہ اپنے گن مینوں و دیگر کے ساتھ گاڑیوں میں جائے وقوعہ پر آیا تھا ، مدعی کے مطابق اس حوالے سے پہلے ہی 2 مقدمات گارڈن تھانے میں درج ہو چکے ہیں اور اب کامران فاروقی ولد نامعلوم شوشل میڈیا پر اشتعال پھیلاتے ہوئے اسے زندہ جلانے کی دھمکیاں دینے اور خوش قسمتی سے بچ جانے کا بیان و خبر شائع کی ہے جس کا یہ جرم 506 بی اور پیکا ایکٹ 2016 کا ہونا پاتا ہے جو قابل دست اندازی جرم ہے۔
لہذا مقدمہ برخلاف کامران فاروقی کے خلاف درج کیا جس کی مزید تفتیش انویسٹی گیشن سی آئی سی گارڈن ڈویژن پولیس کریگی ۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل کامران فاروقی پیکا ایکٹ
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔