این آئی سی وی ڈی میں بین الاقوامی معیار کا کلینیکل ٹرائلز یونٹ قائم
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
کراچی کے قومی ادارے برائے امراضِ قلب (این آئی سی وی ڈی) میں بین الاقوامی معیار کا کلینیکل ٹرائلز یونٹ قائم کیا جا رہا ہے جو نہ صرف تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دے گا بلکہ غیر ملکی فنڈنگ کے حصول میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق یہ یونٹ اسپتال کی بالائی منزل پر قائم کیا جائے گا جو ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کے متعین کردہ اصولوں کے مطابق مکمل ہوگا۔
ان خیالات کا اظہار قومی ادارہ برائے امراض قلب کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پروفیسر طاہر صغیر نے ایکسپریس نیوز سے گفتگو کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی این آئی سی وی ڈی کی پرانی او پی ڈی کی عمارت کی بالائی منزل پر کلینیکل ٹرائلز یونٹ قائم کیا جائے گا جہاں بین الاقوامی معیار کے مطابق ریسرچ کی جاسکیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں بچوں کو امراض قلب کے علاج کے لیئے پڑوسی ممالک سے علاج کروانا پڑتا تھا جو مالی طور پر ایک بڑا مسئلہ تھا، اس ریسرچ یونٹ کے ذریعے علاج کے معیار کی بہتری اور نئی تحقیق پر کام کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ سول سوسائٹی کے تعاون سے بلڈ، آپریٹ اینڈ ٹرانسفر (بی او ٹی) کے ماڈل پر مکمل کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ یونٹ نجی کمپنی کی جانب سے تیار کرکے ہمارے حوالے کیا جائے گا جس میں ہمارا کردار مانیٹرنگ کا ہوگا،کلینکل ٹرائلز یونٹ کے ساتھ یہاں کانفرنس ہال اور لائبریری بھی تیار کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ پرانی او پی ڈی کی زیریں منزل کو ایمرجنسی میں تبدیل کیا جائے گا جس سے ایمرجنسی وارڈ کو توسیع ملے گی۔ فی الوقت ای آر میں 80 بستروں کی گنجائش ہے جو بڑھا کر 160 سے 180 تک کی جائے گی۔ نئی ایمرجنسی میں تمام شعبہ جات کو ایک بڑا میڈیفائیڈ ہال قائم کیا جائے گا۔ اسپتال میں ایک نئی او پی ڈی تعمیر کی جا رہی ہے جو رواں سال اکتوبر یا نومبر تک فعال ہو جائے گی جس کا داخلی راستہ اسپتال سے باہر ہوگا تاکہ اسپتال پر دباؤ کم ہو۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ کشیدگی کے باعث وفاق کی جانب سے بجٹ کم ملنے کے باوجود سندھ حکومت نے پیڈیاٹرک بلاک کے لیے 2.
اس موقع پر انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ 2026 کے ابتدائی مہینوں میں این آئی سی وی ڈی میں ان منصوبوں کے سبب مثبت تبدیلیاں نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آئی سی وی ڈی انہوں نے کہا کہ ٹرائلز یونٹ کیا جائے گا قائم کیا
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔