ہمیں ایک آمرانہ نظام میں زندگی گزارنے پر مجبور کیا گیا ہے، میر واعظ
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
انہوں نے کہا کہ کیا حکام اس قدر خوفزدہ ہیں کہ وہ ہمیں اپنے مرحوم رہنمائوں کو الوداع بھی نہیں کرنے دیتے، ان کیلئے دعا کی اجازت نہیں دیتے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ بھارتی انتظامیہ کی طرف سے انہیں بار بار گھر میں نظربند کرنا اور نماز جمعہ کیلئے جامع مسجد جانے سے روکنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہمیں ایک آمرانہ نظام میں زندگی گزارنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق میر واعظ عمر فاروق نے جنہیں گزشتہ روز مسلسل دوسرے ہفتے گھر میں نظربند کر کے نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے سرینگر کی تاریخی جامع مسجد جانے نہیں دیا گیا، ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ یہ انتہائی باعث افسوس ہے کہ حکومت جب چاہے ہمارے دینی اور شہری حقوق پر قدغن لگا دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جمعہ میرے لیے اس لیے بھی اہم تھا کیونکہ میرے دیرینہ ساتھی، رفیق اور دوست پروفیسر عبدالغنی بٹ ہم سے جدا ہو گئے تھے۔میرواعظ نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ ہمیں ان کے جنازے میں شریک نہیں ہونے دیا گیا، کم از کم جمعہ کے موقع پر اگر ہم ان کے لیے دعا کرتے تو کون سا آسمان ٹوٹ پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ کیا حکام اس قدر خوفزدہ ہیں کہ وہ ہمیں اپنے مرحوم رہنمائوں کو الوداع بھی نہیں کرنے دیتے، ان کیلئے دعا کی اجازت نہیں دیتے۔ میرواعظ نے کہا کہ انتظامیہ کا یہ عمل انتہائی قابل مذمت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔