آزاد کشمیر: وزارت عظمی کے لیے چوہدری یاسین کے نام پر پیپلزپارٹی میں اختلافات WhatsAppFacebookTwitter 0 30 October, 2025 سب نیوز

مظفرآباد (آئی پی ایس)آزاد کشمیر میں نئی حکومت کی تشکیل کے معاملے پر پیپلزپارٹی ارکان میں اختلافات سامنے آگئے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم آزاد کشمیر کے عہدے کے لیے چوہدری یاسین کے نام پر پارٹی کے کئی اراکین اسمبلی کو تحفظات ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کے اندر ایک مضبوط گروپ چوہدری یاسین کی مخالفت کر رہا ہے، جبکہ مہاجرین کی مخصوص نشستوں پر منتخب ایم ایل ایز چوہدری لطیف کے حامی ہیں۔ پارٹی قیادت نے تحفظات سامنے آنے کے بعد وزیراعظم کے نام کا باضابطہ اعلان مخر کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق قیادت کو خدشہ ہے کہ اگر چوہدری یاسین کا نام سامنے لایا گیا تو پارٹی کے اندر تقسیم مزید بڑھ سکتی ہے۔ اس وقت پارٹی کے کئی اراکین کو اس بات پر بھی اعتراض ہے کہ اگر چوہدری یاسین وزیراعظم بن گئے تو صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری اور وزیراعظم، دونوں کا تعلق میرپور ڈویژن سے ہوگا۔ یاد رہے کہ ماضی میں بھی میرپور ڈویژن سے پیپلزپارٹی کے دو وزرائے اعظم رہ چکے ہیں۔

پارٹی کے اندرونی اختلافات بڑھنے پر پیپلزپارٹی آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس دوبارہ طلب کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق بلاول بھٹو اسی معاملے پر پارلیمانی پارٹی کو جلد اعتماد میں لیں گے۔ذرائع کے مطابق اگر پارٹی کے تحفظات دور نہ ہوئے تو وزیراعظم کے امیدوار کے نام پر نظر ثانی کا امکان موجود ہے۔ دوسری جانب سردار یعقوب خان پر کچھ اراکین نے صدر اور وزیراعظم رہنے کے باعث اعتراضات اٹھائے ہیں جبکہ سردار لطیف اکبر کو سینئر رہنما ہونے کی وجہ سے پارٹی کے ایک مضبوط دھڑے کی حمایت حاصل ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیراعظم سے محسن نقوی کی ملاقات، دورہ عمان اور ایران کے حوالے سے آگاہ کیا وزیراعظم سے محسن نقوی کی ملاقات، دورہ عمان اور ایران کے حوالے سے آگاہ کیا لبنانی صدر نے فوج کو کسی بھی اسرائیلی دراندازی کا مقابلہ کرنے کا حکم دے دیا افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی نہیں ہونے دیں گے، فیلڈ مارشل شہر اقتدار کے ماسٹر پلان کی 65ویں سالگرہ کی تقریب،اسلام آباد شہر میلہ کا انعقاد اب ٹرمپ کہاں ہے جو کہتا تھا میں نے غزہ میں جنگ بند کرائی، مولانا فضل الرحمان وزیراعظم آزاد کشمیر کیخلاف تحریک عدم اعتماد، پی پی اور ن لیگ میں نیا ڈیڈ لاک TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: پر پیپلزپارٹی چوہدری یاسین کے نام پر کے لیے

پڑھیں:

وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔

سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزامات

بدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔

مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟

صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔

تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرار

طالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔

اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔

بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویر

رپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔

اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • فیصل ممتاز راٹھور سے چوہدری یاسین کی ملاقات
  • معاون خصوصی / وزیر مملکت نے اپنی وزارت میں پندرہ لاکھ کے مساج کا بل جمع کروادیا
  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی