وزیراعظم ا آزادیِ صحافت کے عالمی دن پر حق و سچ کے علمبردار صحافیوں کو خراجِ تحسین
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آزاد اور باخبر صحافت کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہے، حکومت پاکستان آزادیِ اظہار اور صحافیوں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق صحافیوں کے خلاف جرائم کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں شہباز شریف نے کہا کہ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آزاد، باخبر اور ذمہ دار صحافت جمہوریت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، صحافی عوام تک حقائق پہنچاتے ہیں اور سچائی کے علمبردار ہوتے ہیں، جب کہ ان کے خلاف تشدد، دھمکی یا انتقامی کارروائیاں دراصل آزادیِ اظہار پر حملہ ہیں۔
وزیراعظم نے اُن تمام صحافیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے حق و سچ کی خاطر مشکلات برداشت کیں، اور ان اہلِ قلم و میڈیا ورکرز کے اہل خانہ سے اظہارِ یکجہتی کیا جنہوں نے اپنے پیاروں کو فرضِ منصبی کے دوران کھو دیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان آزادیِ صحافت کے فروغ، صحافیوں کے تحفظ، اور ان کے خلاف جرائم کی شفاف تحقیقات کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے تاکہ انصاف کی فراہمی اور مجرموں کے خلاف قانونی کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔
شہباز شریف نے عالمی برادری، میڈیا اداروں اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ بھی صحافیوں کے تحفظ اور آزادیِ اظہار کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کریں کیونکہ آزاد صحافت ہی ایک شفاف، مضبوط اور جمہوری پاکستان کی ضمانت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل صحافیوں کے کے خلاف
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔