’ورک ویز ویزا فیس صرف نئے درخواستگزاروں پر لاگو ہوگی‘،امریکی حکومت کی وضاحت
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کردہ ایچ-1بی ویزا (ورک ویزا) فیس میں بڑے اضافے پر پیدا ہونے والی الجھن کے بعد وائٹ ہاؤس نے وضاحت کی ہے کہ ایک ڈالر کی یہ بھاری فیس صرف نئے درخواست گزاروں پر عائد ہوگی، موجودہ ویزا ہولڈرز اور تجدید کرنے والوں پر نہیں۔
Clarification has arrived… as expected, it’s a sign of testing the water and finding it deeper than expectations, so the US is backtracking now.
— Amit Sethi (@MyWealthGuide) September 21, 2025
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے ہفتے کی رات سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ سالانہ فیس نہیں ہے، بلکہ ایک بار لاگو ہونے والی فیس ہے جو صرف نئے ویزوں کے لیے ہو گی، موجودہ ویزا ہولڈرز یا ری انٹری کرنے والوں پر نہیں۔
کاروباری اداروں میں بے چینیاس وضاحت سے قبل امریکی کمپنیاں سخت پریشانی میں مبتلا تھیں اور انہوں نے اپنے غیر ملکی ملازمین کو ملک سے باہر نہ جانے کی ہدایت کر دی تھی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بعض افراد نے تو پرواز کے دوران ملک چھوڑنے کا ارادہ ترک کر دیا تھا تاکہ واپس آنے میں رکاوٹ نہ ہو۔
جے پی مورگن بینک نے اپنے ملازمین کو باضابطہ ایڈوائزری جاری کی تھی کہ مزید ہدایت تک امریکا کے اندر ہی رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی ورک ویزا فیس میں ہوشربا اضافہ، 71فیصد بھارتی لپیٹ میں آگئے
واضح رہے کہ جمعہ (19 ستمبر)کو امریکی حکام کی جانب سے کہا گیا تھا کہ نئی فیس امریکی کارکنوں کے مفاد میں ہے کیونکہ ان کے بقول ایچ-1بی پروگرام کا غلط استعمال کر کے امریکی افرادی قوت کو کم تنخواہ پر غیر ملکیوں سے بدلا جا رہا ہے۔
یہ پروگرام امریکی کمپنیوں کو غیر ملکی ماہرین، سائنسدانوں، انجینئروں اور کمپیوٹر پروگرامرز کو ملازمت دینے کی اجازت دیتا ہے۔
یہ ویزا 3 سال کے لیے جاری کیا جاتا ہے اور زیادہ سے زیادہ 6 سال تک بڑھایا جا سکتا ہے۔
گزشتہ سال امریکا نے تقریباً 4 لاکھ ایچ-1بی ویزے جاری کیے تھے جن میں دو تہائی تجدید شدہ تھے۔
I repeat, India has a weak PM. https://t.co/N0EuIxQ1XG pic.twitter.com/AEu6QzPfYH
— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) September 20, 2025
بھارتی شہری ہر سال تقریباً 3 چوتھائی ویزے حاصل کرتے ہیں، جس کے باعث نئی پالیسی کا سب سے زیادہ اثر انہی پر پڑے گا۔
بھارت کی تشویشبھارتی وزارتِ خارجہ نے اپنے ردعمل میں کہا کہ اس اقدام کے باعث خاندانی زندگی میں رکاوٹ اور انسانی مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے جس پر امریکی حکام کو غور کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی ورک ویزا مزید مہنگا،’ہم بہترین لوگوں کو امریکا میں آنے کی اجازت دیں گے‘،صدر ٹرمپ
دوسری جانب ایلون مسک سمیت کئی ٹیک انٹرپرینیورز نے خبردار کیا کہ امریکہ کے پاس اتنی مقامی صلاحیت موجود نہیں جو اہم ٹیک سیکٹر کی ضروریات پوری کر سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔