ویمنز ورلڈکپ 2025 کا فائنل گزشتہ 12 ایونٹس کے فائنل سے مختلف کیوں ہوگا؟
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
ویمنز ورلڈکپ کے حالیہ ایڈیشن کے فائنل میں ویمنز ورلڈکپ کی 52 سالہ تاریخ میں نئی تاریخ رقم ہونے کے قریب ہے۔
1973 سے اب اب تک 12 مرتبہ آئی سی سی ویمنز ورلڈکپ کا انعقاد ہوچکا ہے جس کے فائنل میں آسٹریلیا یا انگلینڈ میں سے کسی ایک ٹیم نے ضرور رسائی حاصل کی تھی۔
تاہم ویمنز ورلڈکپ 2025 کے پہلے سیمی فائنل میں جنوبی افریقا نے انگلینڈ کو شکست دے کر پہلی مرتبہ فائنل میں رسائی حاصل کی جبکہ دوسرے سیمی فائنل میں بھارت نے دفاعی چیمپئن آسٹریلیا کو شکست دے کر فائنل کی دوڑ سے باہر کیا۔
یہ ویمنز ورلڈکپ کی تاریخ میں پہلا موقع ہوگا جب آسٹریلیا یا انگلینڈ میں سے کوئی ایک ٹیم فائنل میں موجود نہیں ہوگی۔
A new name will be etched on the #CWC25 trophy ????
India and South Africa have a date with destiny on 2 November ????
Broadcast details ???? https://t.
بھارتی ٹیم اس سے قبل دو مرتبہ رنر اپ رہ چکی ہے تاہم جنوبی افریقا کا یہ پہلا فائنل ہوگا جس سے یہ بات یقینی ہے کہ اس مرتبہ ورلڈکپ کی فاتح نئی ٹیم ہوگی۔
واضح رہے کہ آسٹریلوی ٹیم ریکارڈ 7 مرتبہ ٹائٹل اپنے نام کرچکی ہے۔ انگلینڈ نے 4 مرتبہ اور نیوزی لینڈ نے ایک مرتبہ چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔
Women’s ODI World Cup champions ????
1973: England
1978: Australia
1982: Australia
1988: Australia
1993: England
1997: Australia
2000: New Zealand
2005: Australia
2009: England
2013: Australia
2017: England
2022: Australia
????????????????: ???????????????????? ???????????????????????? ???????? ???????????????????? ???????? ???????? pic.twitter.com/1k0QOc1Kih
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ویمنز ورلڈکپ فائنل میں
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔