فلائٹس کا نظام درہم برہم،کراچی سے روانہ ہونیوالی 7پروازیں منسوخ
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
(اقصیٰ شاہد )تکنیکی اور آپریشنل وجوہات کے باعث فلائٹ کا نظام درہم برہم ہوگیااورکراچی سے روانہ ہونے والی 7پروازیں منسوخ ہوگئیں۔
تکنیکی اور آپریشنل وجوہات کے باعث منسوخ ہونےوالی پروازوں میں کراچی سے دبئی جانے والی ایمریٹس کی پرواز ای کے 609 ،کراچی سے اسلام آبادجانےوالی ایئرسیال کی پرواز پی ایف 125،123اورکراچی سے مسقط جانےوالی عمان ایئر کی پرواز ڈبلیو وائے 324شامل ہیں۔
کراچی سے بیجنگ جانےو الی ایئر چائنہ کی پرواز سی اے 946م،کراچی سے کوالالمپورجانے والی ایئرپلن کی پرواز ڈی سیون 109 اورکراچی سے دبئی جانےوالی ایمریٹس کی پرواز ای کے 609 بھی منسوخ ہونے والی پروازوں میں شامل ہیں۔
لیسکو کا سموگ کے دوران بجلی بریک ڈاؤن سے بچاؤ کیلئے اقدامات کا آغاز
منسوخ ہونےوالی پروازوں میں کراچی سے مسقط جانے والی سلام ایئر کی پرواز اووی 516 ،کراچی سے مسقط جانے والی عمان ایئر کی پرواز ڈبلیو وائے 324اورکراچی سے اسلام آبادجانے والی ایئرسیال کی پرواز پی ایف 125،123بھی شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔