Daily Mumtaz:
2026-06-02@23:25:33 GMT

حکومت کا نیٹ میٹرنگ کی قیمت میں بڑی کمی پرغور

اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT

حکومت کا نیٹ میٹرنگ کی قیمت میں بڑی کمی پرغور

اسلام آباد: سردیوں میں دن میں گرڈ کی بجلی کی طلب میں کمی اور دن کی دھوپ سے اضافی بجلی پیدا ہونے کے خطرے کے پیش نظر حکومت نیٹ میٹرنگ کی قیمت میں کمی پر غور کر رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق نیٹ میٹرنگ کی قیمت 22 روپے کو کم کرکے 11.30 روپے فی یونٹ کرنے پرغور ہو رہا ہے اور وزیراعظم نے اس سلسلے میں متعلقہ حکا م کو قیمتوں پر نظرثانی کی ہدایت کر دی ہے۔

نیٹ میٹرنگ کی اس اسکیم نے بھاری مالی بوجھ پیدا کرنا شروع کردیا تھا جو کہ گرڈسے وابستہ صارفین سے دوروپے فی یونٹ وصولی تک تھا۔

سرکاری ڈیٹا کے مطابق چھتوں پر لگےہوئے سولر سسٹم کی تیزرفتارتوسیع سے گرڈ کے ذریعے بیچی جانے والی بجلی کی فروخت میں 3.

2 ارب یونٹ کمی آئی۔ اس سے ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کےمنافع میں 101 ارب روپے کمی آئی جس سے ٹیرف کو 0.9کلوواٹ آورتک بڑھانا پڑا۔

پاورڈویژن کے تخمینے میں متنبہ کیا ہے کہ مالی سال 2034 میں یہ اعداد و شمار بڑھ کر 18.8 ارب یونٹ تک بڑھ سکتے ہیں جس کا مطلب 545 ارب روپے اثر ہے اورصارفین پر اس کا اثر 5 سے 6روپے فی یونٹ تک ہو سکتا ہے۔

عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ ایک سنجیدہ ایشو بن گیا ہے اور وزیراعظم کی براہ راست مداخلت اس معاملے میں ہوئی ہے۔

22اکتوبر کوہونے والے اجلاس میں وزیراعظم نے نیپرا اورپاورڈویژن کو ہدایت کی کہ وہ بائی بیک ٹیرف کا جائزہ لیں اور اس کی تصدیق کریں۔ یہ نظام سولرصارفین کےلیے بیٹری اسٹوریج کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: نیٹ میٹرنگ کی

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان