ایشیا کپ سپر 4: بھارت سے شکست کے بعد کپتان سلمان علی آغا کا بیان سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
ایشیا کپ سپر4 مرحلہ میں بھارت سے شکست کے بعد پاکستانی ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا کا بیان سامنے آگیا۔
کپتان سلمان علی آغا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم نے پرفیکٹ گیم نہیں کھیلا، بھارتی بیٹرز نے پاور پلے میں شانداربیٹنگ کرکےمیچ ہم سےچھین لیا۔
ان کا کہنا تھا ہم نے بولنگ توقع کے مطابق نہیں کی، اننگز میں 10-15 رنز کم ہوئے ہیں ہمارا اسکور 180 رنز سے زائد ہونا چاہیے تھا۔
سلمان علی آغا کا کہنا تھا کہ سری لنکا کے خلاف میچ میں خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔
یاد رہے کہ بھارت نے ایشیا کپ کے سپر 4 مرحلے میں پاکستان کی ناقص کپتانی اور فیلڈنگ کا فائدہ اٹھایا اور 172 رنز کا ہدف 4 وکٹوں کے نقصان پر باآسانی حاصل کر کے اہم فتح اپنے نام کی۔
سلمان علی آغا نے بھارت کے خلاف میچ میں فخر زمان کے کیچ آؤٹ کو ممکنہ طور پر غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں لگا گیند زمین پر لگی مگر فیصلہ امپائر کا ہی ہوتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سلمان علی ا غا
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔