شہزادہ محمد بن سلمان کی پردعوت پرمحمد شہباز شریف کا دورہ سعودی عرب
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مقدم ہر مسلماں پر حرم کی پاسبانی ہےوفا کے ہرسمندر میں اسی دریاکا پانی ہےحرم کے دشمنوں سے جنگ جاری ہے تسلسل سےیہی اپنی کہانی ہے یہی اپنی کہانی ہے
ولی عہد و وزیر اعظم سعودی عرب شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی پر وقار دعوت پر پاکستان کے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے 17 ستمبر 2025 – 25/3/1447 ہجری کو مملکت سعودی عرب کا سرکاری دورہ کیا۔۔ ولی عہد و وزیرِ اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، نے ریاض کے ال یمامہ پیلس میں وزیر اعظم پاکستان کا استقبال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور سعودی عرب کے وفود کی موجودگی میں مذاکرات کا باضابطہ اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس کے آغاز میں، وزیر اعظم شہباز شریف نے خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کیلئے خیرمقدم کا اظہار کرتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ فریقین نے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور سٹریٹجک تعلقات اور مشترکہ دلچسپی کے متعدد موضوعات کا جائزہ لیا اور تبادلہ خیال کیا۔ مملکت سعودی عرب اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درمیان تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط تاریخی شراکت داری، بھائی چارہ اور اسلامی یکجہتی کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ سٹریٹجک مفادات اور قریبی دفاعی تعاون کے تناظر میں، ولی عہد و وزیرِ اعظم سعودی عرب عزت دشمنوں سے جنگ جاری ہے تسلسل سےمآب شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان اور سعودی عرب کے مابین اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے(SMDA) پر دستخط کئے۔ یہ معاہدہ، جو دونوں ممالک کی اپنی سلامتی کو بڑھانے اور خطے اور دنیا میں سلامتی اور امن کے حصول کےلیے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے، اس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینا اورکسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاع و تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔ معاہدے میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی ایک ملک کے خلاف کسی بھی جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے اپنے اور پاکستانی وفد کے پرتپاک استقبال اور فراخدلی سے مہمان نوازی پر ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے خادم الحرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، ولی عہد و وزیرِ اعظم سعودی عرب شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور سعودی عرب کے برادر عوام کے لیے مسلسل ترقی، خوشحالی اور فلاح و بہبود کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ عزت مآب ولی عہد نے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی اچھی صحت، تندرستی اور پاکستان کے برادر عوام کی مزید ترقی اور خوشحالی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز ا ل سعود اعظم محمد شہباز شریف ولی عہد و وزیر شہباز شریف نے دونوں ممالک کے درمیان کا اظہار
پڑھیں:
’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے طلبہ احتجاج کے تناظر میں ایک اہم پیغام جاری کرتے ہوئے طلبہ اور سونم وانگچک سے اپیل کی ہے۔
سلمان خان نے نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک ہونے کے معاملے پر جاری طلبہ احتجاج کے تناظر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’طلبہ کی تعلیم اور سیکیورٹی ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے، اس لیے انہیں خود بھی فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی اپنے والدین کو مزید پریشان کرنا چاہیے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’معزز وزیرِ اعظم اس معاملے پر ٹوئٹ کر چکے ہیں، اور مجھے یقین ہے کہ وہ پرچہ لیک کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔ لہٰذا تمام طلبہ سے گزارش ہے کہ وہ اپنے والدین اور گھروں کو واپس چلے جائیں۔‘‘
View this post on Instagramاداکار نے اپنے پیغام میں گزشتہ 25 روز سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے تعلیمی کارکن سونم وانگچک کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’سونم، اب بہت ہو گیا، بھائی۔ براہِ کرم اپنی بھوک ہڑتال مزید طویل نہ کریں۔ اگر مستقبل میں ضرورت پڑی تو احتجاج کا جذبہ برقرار رکھیے، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اب اس کی ضرورت ہے۔ کچھ کھا لیجیے، اگر چاہیں تو میں اپنے گھر سے آپ کے لیے کھانا بھی بھجوا دوں گا۔‘‘
یہ بیان سلمان خان کی جانب سے 24 گھنٹوں کے دوران اس معاملے پر دوسری عوامی اپیل ہے۔ اس سے قبل بھی انہوں نے نیٹ امتحان کے تنازع پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طلبہ کے مفادات کے تحفظ پر زور دیا تھا۔
View this post on Instagramواضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔