وزیر اعظم شہباز شریف کی بھارت کو برابری کی بنیاد پر ایک بار پھر مذاکرات کی پیشکش
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
ویب ڈیسک: وزیراعظم شہباز شریف نے بھارت کو ایک بار پھر مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔
برطانیہ میں اوورسیز پاکستانیوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے معرکہ حق کے بارے میں کہا ہے کہ سیزفائر ہو چکا ہے اب ہم امن، سرمایہ کاری اور ترقی چاہتے ہیں جبکہ کشمیر، پانی کے مسئلے اور ٹریڈ کاؤنٹر ٹیررازم پر برابری کی بنیاد پر بات کرنا چاہتے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہم کشمیر کا مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں خطے میں ہم ہمسایہ ممالک ہیں، یہ فیصلہ ہمارا ہے کہ امن سے رہنا ہے یا لڑتے رہنا ہے، میں سمجھتا ہوں کشمیر کا مسئلہ حل ہونا بنیادی ستون ہے، کوئی سمجھتا ہے کشمیر کے مسئلے کے بغیر تعلقات بحال ہو سکتے ہیں تو یہ کبھی نہیں ہو سکتا، کشمیریوں کا خون رائیگا نہیں جائے گا کشمیریوں کو ان کا حق ملے گا۔
جلد کے ٹیٹوز سے اکتا کر چینی نوجوان دانتوں پر ٹیٹوز بنوانے لگے
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو 10 مئی کی عظیم فتح اور جیت کی مبارکباد دیتا ہوں، یہ وہ فتح ہے جس نے دشمن کو وہ سبق سکھایا کہ زندگی بھر یاد رکھے گا، ہم پر الزام لگایا تو میں نے کہا کہ ’پاکستان کا پہلگام واقعے سے دور دور تک تعلق نہیں، پہلگام واقعے پر عالمی کمیٹی بنا کر تحقیقات کروالی جائیں‘ لیکن ہمارے ہمسایہ ملک نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔
’6 مئی کو دشمن نے حملہ کیا جس میں بے گناہ پاکستانی شہید ہوئے،دشمن نے مساجد کو شہید کیا سویلین اثاثوں پر حملے کیے گئے۔
بنگلادیش کرکٹ بورڈ میں پہلی مرتبہ خاتون سلیکٹر کا تقرر
پاکستان کو اپنے دفاع میں کارروائی کرنا پڑی، پاکستان نے ایک جھٹکے میں دشمن کے 6 جہاز زمین بوس کر دیئے، دشمن کو چند گھنٹوں میں پتالگ گیا اگر بات نکلی تو بہت دور تک جائے گی۔
فیلڈ مارشل آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے مجھے کہا کہ ’ ہندوستان نے ہم پر دوبارہ حملہ کر دیا ہے، وزیراعظم اجازت دیں ہم دشمن کو وہ سبق سکھائیں گے کہ زندگی بھر یاد رکھے گا‘۔‘
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ایک عرب ملک کے سربراہ نے مجھ سے پوچھا کہ وہ کونسی دو باتیں ہیں جو آپ کی فتح کی وجہ بنی، میں نے جواب دیا کہ افواج پاکستان کی دلیری، شجاع اور اللہ پر بھروسہ اور دوسرے نمبر پر قومی یکجہتی تھی، تیسری بات میں نے کہی کہ جب فیصلہ ہوا تو ملٹری لیڈرشپ نے مڑ کر نہیں دیکھا، فیلڈ مارشل نے اپنے جوانوں کو تیار کیا اور کمال کی کارکردگی دکھائی، ہمارے شاہینوں نے دشمن کو قابو کیا۔
چودھری شجاعت نے باڈی بلڈرز فیڈریشن کے چیئرمین بننے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیدیا
’پوری قوم میں ایک یکجہتی کراچی سے لے کر پشاور تک سب سجدہ ریز تھے، اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو وہ فتح دی کہ مشرق سے لے کر مغرب تک سبز پاسپورٹ کو سلام کرتے ہیں۔
آپریشن بنیان مرصوص کے دوران دشمن کا گولہ لیفٹیننٹ کرنل ظہیر عباس کے گھر کے قریب گرا، اس واقعے میں ان کا بیٹا ارتضیٰ عباس شہید ہوا، میں نے صدر اور فیلڈ مارشل نے اس ننھے بچے کا جنازہ پڑھا، اس بچے کا چہرہ پھول کی طرح کھلا ہوا تھا، ہم نے دشمن سے بچے کا بھرپور بدلہ لیا۔‘
کامن ویلتھ بیچ ہینڈ بال چیمپئن شپ؛ پاکستان سیمی فائنل میں پہنچ گیا
تقریب میں وزیر اعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمیں قرضوں سے نجات حاصل کرنی ہے، یہ قوم بڑی عظیم اور جری قوم ہے، پاکستان کی آبادی کا 60 فیصد حصہ یوتھ پر مشتمل ہے، ہم پالیسیاں بنا رہے ہیں قرضوں سے نجات حاصل کریں گے، پاکستان میں سرمایہ کاری لائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: اعظم شہباز شریف دشمن کو کہا کہ
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔