پاکستانی بولرز کے ہاتھوں دھلائی، جسے بھارتی کبھی بھول نہیں پائیں گے
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
ایشیا کپ سپر 4 کے بڑے مقابلے سے قبل شائقین کی سب سے زیادہ نظریں پاکستان کے بولنگ اٹیک پر جمی ہوئی ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان نے کئی بار اپنے شاندار بالنگ اٹیک کے ذریعے بھارت کو مشکل میں ڈالا ہے اور یادگار ریکارڈ قائم کیے ہیں۔
سب سے نمایاں کارکردگی 1985ء میں شارجہ کے میدان میں سامنے آئی، جب عمران خان نے بھارت کے خلاف شاندار بولنگ کرتے ہوئے صرف 14 رنز کے عوض 6 وکٹیں حاصل کیں۔ یہ آج بھی پاکستان کی طرف سے بھارت کے خلاف بہترین ون ڈے بولنگ ریکارڈ مانا جاتا ہے۔
اسی طرح 1997ء کے ٹورنٹو کپ میں وسیم اکرم اور وقار یونس کی جوڑی نے بھارتی بیٹنگ لائن کو مسلسل دباؤ میں رکھا، جس کے نتیجے میں پاکستان کو یادگار کامیابیاں نصیب ہوئیں جب کہ 2004ء میں کوچی کے میدان پر شعیب اختر نے اپنے برق رفتار اسپیل سے بھارتی بلے بازوں کو سخت دباؤ میں رکھا۔
2009ء کی چیمپئنز ٹرافی میں محمد عامر نے دہلی کے اوپنرز کو جلد پویلین بھیجا اور اس شاندار آغاز کے نتیجے میں بھارت کے بڑے اسکور کے خواب چکنا چور ہوگئے۔
اسی طرح 2017ء کی چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں انگلینڈ کے اوول گراؤنڈ میں محمد عامر کا تباہ کن اسپیل آج بھی کرکٹ کے شائقین کو یاد ہے، جب انہوں نے روہت شرما، شیکھر دھون اور ویرات کوہلی جیسے بڑے بلے بازوں کو صرف 33 رنز پر میدان سے باہر نکالا۔ یہ آغاز پاکستان کی تاریخی فتح کا نقطہ آغاز بنا تھا۔
ایشیا کپ کی تاریخ بھی پاکستانی بولرز کے شاندار کارناموں سے بھری ہوئی ہے۔
1995ء میں آکلینڈ میں وقار یونس نے شاندار 4 وکٹیں لے کر بھارت کی جیت کی امیدیں ختم کر دی تھیں۔ 2012ء کے ایشیا کپ میں سعید اجمل اور عمر گل نے دباؤ ڈال کر بھارت کے بڑے ٹوٹل کو محدود کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
پاکستانی بولرز کے ان تاریخی کارناموں نے ہمیشہ یہ ثابت کیا ہے کہ پاک بھارت میچ میں بالنگ اٹیک ہی اصل حربہ ہے۔ شائقین کرکٹ آج بھی یہ دیکھنے کے لیے بے چین ہیں کہ دبئی کے میدان پر کون سا بولر تاریخ کے صفحات میں اپنا نیا باب رقم کرتا ہے۔
بھارت کے خلاف پاکستانی بولرز کے نمایاں ریکارڈز:
عمران خان: 6/14، شارجہ 1985 (ون ڈے میں بھارت کے خلاف بہترین بولنگ) وقار یونس: 5/31، کوچی 1996 وسیم اکرم: 4/19، ٹورنٹو 1997 شعیب اختر: 4/36، کوچی 2005 محمد عامر: 3/16، اوول (چیمپئنز ٹرافی فائنل 2017) سعید اجمل: 3/40، ڈھاکا (ایشیا کپ 2012) .
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستانی بولرز کے بھارت کے خلاف ایشیا کپ
پڑھیں:
دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث سیاحوں کی تعداد میں نمایاں کمی کے بعد دبئی نے سیاحت کو دوبارہ فروغ دینے کے لیے منفرد مہم شروع کر دی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق نئی اسکیم کے تحت متحدہ عرب امارات کے رہائشی اگر اپنے دوستوں یا رشتہ داروں کو دبئی گھومنے کے لیے آمادہ کریں تو انھیں 3 ہزار اماراتی درہم مالیت تک کے انعامات اور سہولتیں دی جائیں گی۔
دبئی کے محکمۂ اقتصادیات و سیاحت کی جانب سے متعارف کرائی گئی اسکیم ’’دبئی اِنوائٹ‘‘ کے تحت یو اے ای میں مقیم افراد اپنے بیرونِ ملک رہنے والے دوستوں اور اہلِ خانہ کو نامزد کرسکتے ہیں۔
اگر کسی شہری کی دعوت پر ان کے دوست یا رشتہ دار سیاحتی ویزے پر دبئی آتے ہیں تو میزبان کو ہوٹل میں قیام، ریستورانوں میں خصوصی رعایت، تفریحی مقامات کے ٹکٹ اور دیگر مراعات پر مشتمل خصوصی پیکیج دیا جائے گا۔
اس اسکیم کے تحت ہر رہائشی زیادہ سے زیادہ تین مہمانوں کے لیے فوائد حاصل کرسکتا ہے بشرطیکہ مہمان 31 اکتوبر سے پہلے دبئی پہنچ جائیں۔ تاہم ان مراعات سے دسمبر تک فائدہ اٹھایا جا سکے گا۔
اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ آنے والا فرد یو اے ای کا رہائشی نہ ہو، وہ درست سیاحتی ویزے پر سفر کرے اور اسے صرف ایک مرتبہ ہی نامزد کیا جا سکے گا۔
دبئی حکومت کے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے اثرات خلیجی ممالک تک پہنچنے کے بعد سیاحت شدید متاثر ہوئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور معروف فیئرمونٹ ہوٹل کو نقصان پہنچا جس سے دبئی کی محفوظ سیاحتی مقام کی ساکھ متاثر ہوئی۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس 2025 میں دبئی نے تقریباً 2 کروڑ بین الاقوامی سیاحوں کا خیرمقدم کر کے نیا ریکارڈ قائم کیا تھا لیکن حالیہ جنگ کے بعد صورتحال یکسر بدل گئی ہے۔
ہوائی سفر پر سیکیورٹی خدشات بڑھنے کے باعث دبئی آنے والی کئی بین الاقوامی ایئرلائنز نے اپنی پروازیں معطل یا محدود کر دیں جبکہ متعدد طیاروں نے مشرقِ وسطیٰ کی فضائی حدود سے گزرنے سے گریز کیا۔
اس کے نتیجے میں دبئی ایئرپورٹس پر آپریٹ کرنے والی ایئرلائنز کی تعداد میں نمایاں کمی آئی۔ دوسری جانب ہوٹلوں میں بکنگ کم ہونے سے خالی کمروں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور کئی کاروباری اداروں کی آمدنی میں 50 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔
دبئی کے بعض مشہور ہوٹلوں نے کم طلب کے باعث تزئین و آرائش کے منصوبے قبل از وقت شروع کر دیے ہیں۔ دنیا کے مشہور برج العرب ہوٹل کو بھی بڑے پیمانے پر مرمت اور بحالی کے لیے تقریباً 18 ماہ کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ کئی ہوٹل اور سیاحتی ادارے حکومت کی نئی اسکیم کے تحت 45 فیصد تک رعایت اور مفت قیام جیسی خصوصی پیشکشیں بھی دے رہے ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق دبئی اِنوائٹ اسکیم کے آغاز کے صرف 48 گھنٹوں میں 10 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کو اس منصوبے سے سیاحت کی بحالی کی امیدیں وابستہ ہیں۔