پی آئی اے میں مفت، رعایتی ٹکٹوں کی بندربانٹ کا انکشاف، قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) میں مفت اور رعایتی ٹکٹوں کی بندر بانٹ کا انکشاف ہوا ہے، جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو صرف 6 برسوں میں مفت اور رعایتی ٹکٹوں کی مد میں 9 ارب 43کروڑ روپے کا خسارہ ہوا۔
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق 6 برسوں کے دوران دو لاکھ 58 ہزار سے زائد مفت ٹکٹس دیے گئے، اس دوران ایک لاکھ 16ہزار سے زائد ٹکٹس 95 فیصد رعایت پر دیئے گئے۔
اسی طرح مفت اور رعایتی ٹکٹس 2011سے 2016 کے درمیان جاری ہوئے، 2011 میں 58 ہزار 861 اور 2012 میں 51ہزار692 مفت ٹکٹس دیے گئے، 2013 میں 56 ہزار815 اور 2014 میں 43 ہزار 77، 2015 میں 21 ہزار816 اور 2016 میں 26 ہزار729 مفت ٹکٹس دیے گئے۔
سعودی قرضے سب سے سستے، معاشی تعاون بڑھے گا، دفتر خارجہ
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک لاکھ 16ہزار سے زائد ٹکٹس پر 95 فیصد رعایت ایسے افراد کو دی گئی جو پی آئی اے کے ملازم بھی نہیں تھے،کرایوں میں رعایت چیئرمین یا ایم ڈی کی منظوری کے بغیر دی گئی اور متعدد یاد دہانیوں کے باوجود 2023 تک اس معاملے پر اجلاس بھی طلب نہیں کیا گیا۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اپنی رپورٹ میں پی آئی اے میں مفت ٹکٹوں کی پالیسی فوری ختم کرنے کی سفارش کر دی ہے۔
ترجمان پی آئی اے کے مطابق 2018 میں سپریم کورٹ کے حکم نامے کے بعد مفت ٹکٹس بالکل بند ہیں، مذکورہ ٹکٹس ایجنٹ انسینٹو اسکیم کے تحت ٹریول ایجنٹس کو زیادہ سیلز کی ترتیب دینے کے لیے جاری کیے گئے تھے۔
تباہ کن سیلاب، معاشی ترقی کی شرح میں نمایاں کمی کی پیشگوئی
انہوں نے بتایا کہ آڈٹ پیرا 9 سال پرانا ہے اور ان پر ڈی اے سی کا اجلاس متعلقہ وزارت بلاتی رہتی ہے، اتنے پرانے آڈٹ پیرا کو دوبارہ اٹھایا جانا کسی خاص حلقے کی جانب سے دباؤ ڈالنے کی ایک کوشش ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پی آئی اے ٹکٹوں کی مفت ٹکٹس میں مفت
پڑھیں:
پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں، جس کے بعد مجموعی رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے مطابق مئی کے دوران ملک بھر میں 3 ہزار 161 نئی کمپنیاں رجسٹر کی گئیں، جس کے بعد رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 2 لاکھ 97 ہزار 239 ہو گئی ہے۔ ایس ای سی پی کے اعداد و شمار کے مطابق نئی رجسٹر ہونے والی کمپنیوں میں سے 99.9 فیصد کی رجسٹریشن آن لائن طریقہ کار کے ذریعے مکمل کی گئی، جو کاروباری سرگرمیوں میں ڈیجیٹل سہولتوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی کرتی ہے۔ صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔
شعبہ وار جائزے کے مطابق سب سے زیادہ کمپنیاں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کے شعبے میں رجسٹر کی گئیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں 598 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ ٹریڈنگ سیکٹر میں 503، سروسز کے شعبے میں 404 اور رئیل اسٹیٹ و کنسٹرکشن کے شعبے میں 303 نئی کمپنیاں قائم کی گئیں۔ایس ای سی پی کے مطابق سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی نمایاں سرگرمی دیکھنے میں آئی، جہاں 206 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن عمل میں لائی گئی۔ ادارے نے بتایا کہ مئی کے دوران 17 مختلف ممالک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان میں کمپنیاں رجسٹر کروائیں۔ اعداد و شمار کے مطابق چین سے تعلق رکھنے والے 89 شیئر ہولڈرز نے مختلف کمپنیوں میں ڈائریکٹر شپ حاصل کی جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی کمپنیوں کا ادا شدہ سرمایہ 139.4 ملین روپے ریکارڈ کیا گیا۔