دفاعی معاہدہ، پاکستان اور ہندوستان کے تناظر میں
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
اسلام ٹائمز: سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کیساتھ تعلقات میں سرد مہری آئی اور ہندوستان کے ساتھ سعودی تعلقات میں اضافہ ہوا، خاص طور پر توانائی کے شعبے میں، اور سعودی عرب ہندوستان کا دوسرا سب سے بڑا تیل فراہم کرنے والا ملک بن گیا۔ لیکن روس کی جانب سے یوکرین کیخلاف جنگ شروع کیے جانے اور روس پر امریکہ اور یورپ کی پابندیوں کی وجہ سے ہندوستان کو سستے روسی تیل کی برآمدات میں اضافے سے بھارت کے لئے تیل کی خریداری کے لئے سعودی عرب کا کردار کمزور پڑ گیا۔ ان ڈیپتھ پوڈ کاسٹ:
مغربی ایشیا کے اہم ترین رجحانات، پیش رفتوں اور شخصیات کا جائزہ لینے والے "ان ڈیپتھ" پوڈ کاسٹ کی حالیہ قسط میں منصور باراتی نے میزبانی کی، پروگرام میں مہمان ماہر حمید کاظمی نے نئے سعودی پاکستانی معاہدے کے بارے میں "ان ڈیپتھ" سوالات کے جوابات دیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات کی تاریخ 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں پیوست ہے۔ ان تعلقات میں اہم موڑ افغانستان پر سوویت یونین کے قبضے کے دوران آیا۔
80 کی دہائی میں دونوں ممالک نے امریکہ کی حمایت سے سوویت افواج کیخلاف جنگ میں حصہ لیا اور دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی شراکت داری مزید مستحکم ہوئی۔ ایک اہم اور تاریخی پہلو پاکستان کا پہلی اٹیمی طاقت ہونا ہے۔ پاکستان کے جوہری پروگرام کی مالی معاونت میں سعودی عرب کے کردار اور ریاض کے لیے ایٹمی چھتری فراہم کرنے کے امکان کے بارے میں ماضی میں بھی افواہیں آتی رہی ہیں، حالانکہ سرکاری طور پر اس کی کبھی تصدیق نہیں کی گئی۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی روایتی طور پر اسلامی ممالک کے ساتھ تعاون پر مبنی رہی ہے اور اس حکمت عملی میں سعودی عرب کو خاص مقام حاصل رہا ہے۔ لیکن یمن کیخلاف سعودی جارحیت اور جنگ دونوں ملکوں کے تعلقات میں ایک منفی نقطہ تھا۔ پاکستانی پارلیمنٹ نے اپنے فوجیوں کی تعیناتی کی مخالفت کی اور اسلام آباد نے تنازع میں جانے سے گریز کیا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں سعودی مالی امداد میں کمی اور پاکستانی شہریوں کے لیے کام پر پابندیاں لگ گئیں۔
اس دوران سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کیساتھ تعلقات میں سرد مہری آئی اور ہندوستان کے ساتھ سعودی تعلقات میں اضافہ ہوا، خاص طور پر توانائی کے شعبے میں، اور سعودی عرب ہندوستان کا دوسرا سب سے بڑا تیل فراہم کرنے والا ملک بن گیا۔ لیکن روس کی جانب سے یوکرین کیخلاف جنگ شروع کیے جانے اور روس پر امریکہ اور یورپ کی پابندیوں کی وجہ سے ہندوستان کو سستے روسی تیل کی برآمدات میں اضافے سے بھارت کے لئے تیل کی خریداری کے لئے سعودی عرب کا کردار کمزور پڑ گیا۔
اس پیش رفت سے سیاسی تعلقات بھی متاثر ہوئے، یہاں تک کہ ریاض نے ہندوستانی عازمین کو حج کے لیے بھیجنے پر پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا۔ حالیہ برسوں میں بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے۔ پاکستانی حکام اور امریکی رہنماؤں کے درمیان ملاقاتیں اور سعودی عرب کے ساتھ حالیہ سٹریٹجک معاہدہ جو کہ جوہری چھتری کے بارے میں پرانی افواہوں کی گونج ہے، ظاہر کرتا ہے کہ اسے ایک رسمی اور قانونی پہلو حاصل ہو چکا ہے۔ یہ معاہدہ برصغیر میں طاقت کے علاقائی توازن کے لیے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاکستان کی تعلقات میں کی جانب سے کے ساتھ تیل کی کے لئے کے لیے
پڑھیں:
امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
امریکی سفارت خانے نے امریکا کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کی تقریبات کے سلسلے میں جمعرات کو اسلام آباد میں ’لیٹ فریڈم رنگ‘ کے عنوان سے ’لبرٹی بیل‘ نمائش کا افتتاح کر دیا۔
نمائش میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے 16 پاکستانی فنکاروں کے تیار کردہ منفرد فن پارے پیش کیے گئے ہیں، جن میں ہر فنکار نے اپنے انداز میں ‘آزادی’ کے تصور کو اجاگر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گورنر خیبرپختونخوا سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون بڑھانے پر اتفاق
نمائش کا افتتاح لوک ورثہ میوزیم میں منعقدہ تقریب میں امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس اور وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے مشترکہ طور پر کیا۔
پاکستانی فنکاروں نے ‘آزادی’ کی نئی تعبیر پیش کیامریکی سفارت خانے کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان میں امریکی مشن کے پبلک ڈپلومیسی سیکشن نے اپنے ‘لنکن کارنرز’ نیٹ ورک کے ذریعے ترتیب دیا، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے 16 فنکاروں کو شریک کیا گیا۔
Federal Minister for NH&C Aurangzeb Khan Khichi and U.S. Chargé d’Affaires Andy Halus on Thursday jointly inaugurated the “Let Freedom Ring” American Liberty Bell display at Lok Virsa Heritage Museum, celebrating the enduring cultural partnership between Pakistan & United States pic.twitter.com/3uqKCelXK9
— National Heritage and Culture Division (@DivisionCulture) July 23, 2026
ہر فنکار سے ایک ہی سوال پوچھا گیا کہ ’میرے لیے آزادی کیا معنی رکھتی ہے؟ ’اس سوال کے جواب میں فنکاروں نے ’لبرٹی بیل‘ کے منفرد ڈیزائن تخلیق کیے، جو پاکستانی نقطۂ نظر سے آزادی کے تصور کی عکاسی کرتے ہیں۔
نمائش 5 روز تک جاری رہے گی‘لیٹ فریڈم رنگ’ نمائش 23 سے 27 جولائی تک اسلام آباد کے 2 نمایاں ثقافتی مراکز، لوک ورثہ میوزیم اور پاکستان مونومنٹ میوزیم میں جاری رہے گی۔
امریکی سفارت خانے نے شہریوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اس 5 روزہ نمائش کے دوران دونوں مقامات کا دورہ کریں اور فن پاروں کا مشاہدہ کریں۔
امریکا اور پاکستان کے مشترکہ اقدار پر زورتقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس نے کہا کہ ‘لبرٹی بیل’ آزادی، اظہارِ رائے اور بہتر مستقبل کی امید کی علامت ہے۔
أعلنت السفارة الأمريكية في إسلام آباد عن افتتاح معرض ليت فريدوم رينغ في متحف لوك ورثه ومتحف النصب التذكاري الباكستاني، وذلك ضمن الاحتفالات العالمية بمرور ٢٥٠ عامًا على إعلان الاستقلال الأمريكي.
شارك في الافتتاح القائم بالأعمال الأمريكي آندي هيلز ووزير التراث الوطني والثقافة… pic.twitter.com/EcPOSXchyu
— WE News | بالعربية (@WENewsArabic) July 23, 2026
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا دونوں معاشروں میں فن، تخلیقی اظہار اور بہتر دنیا کے تصور کو اہمیت دی جاتی ہے۔
لوک ورثہ کئی دہائیوں سے پاکستان کی ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اس تاریخی مقام پر امریکا کی آزادی کی داستان کو بھی پیش کرنا باعثِ فخر ہے۔
ثقافتی تبادلوں سے تعلقات مضبوط بنانے پر زوروفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تبادلے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں:نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے قائم مقام امریکی ناظم الامور کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
انہوں نے اس نمائش کو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات اور باہمی تعاون کی ایک مثبت مثال قرار دیا۔
امریکا 2026 میں اپنے اعلانِ آزادی کی 250 ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ اسی مناسبت سے دنیا بھر میں امریکی سفارت خانے اور سفارتی مشنز کے زیرِ اہتمام ‘فریڈم 250’ کے عنوان سے مختلف تقریبات، نمائشوں اور ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں منعقد کی جانے والی ‘لیٹ فریڈم رنگ’ مہم بھی اسی عالمی پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد آزادی، اختراع، تخلیقی اظہار اور ثقافتی روابط کو فروغ دینا ہے۔
اس نمائش کے ذریعے پاکستانی فنکاروں کو اپنے فن کے ذریعے آزادی کے تصور کو پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا، جسے پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تعاون کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزادی افتتاح لوک ورثہ میوزیم امریکا امریکی سفارتخانہ امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس پاکستان ثقافتی تبادلہ فنکاروں لبرٹی بیل لیٹ فریڈم رنگ مونومنٹ میوزم