توشہ خانہ ٹو کیس میں اہم پیش رفت: سابق ملٹری سیکرٹری بریگیڈیئر (ر) محمد احمد کا بیان سامنے آ گیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
توشہ خانہ ٹو کیس میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف چشم دید گواہ بریگیڈیئر (ر) محمد احمد کا عدالت میں ریکارڈ کرایا گیا بیان منظرِ عام پر آ گیا ہے۔
بریگیڈیئر (ر) محمد احمد، جو مئی 2020 سے اپریل 2022 تک وزیرِ اعظم عمران خان کے ملٹری سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے، نے عدالت کو بتایا کہ انہیں سعودی ولی عہد کی جانب سے ملنے والا قیمتی بلغاری جیولری سیٹ توشہ خانہ میں جمع نہ کروانے کی ہدایت خود عمران خان اور بشریٰ بی بی نے دی تھی۔
انہوں نے کہا کہ 2021 کے دورۂ سعودی عرب کے دوران انہیں یہ تحفے موصول ہوئے، جن میں قیمتی جیولری سیٹ کے علاوہ عود کی بوتلیں، زیتون کا تیل، کھجوریں اور ایک کتاب بھی شامل تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام تحائف کی تصاویر سرکاری پروٹوکول کے مطابق لی گئیں، اور اس عمل میں وزارتِ خارجہ نے باقاعدہ طور پر وزیرِ اعظم آفس کو ان تحائف کے بارے میں تحریری اطلاع دی۔
بیان کے مطابق:
سعودی تحائف کی مجموعی مالیت 29 لاکھ 14 ہزار 500 روپے لگائی گئی۔
ان میں سے بشریٰ بی بی کو دیے گئے تحائف کے بدلے میں رقم جمع کروا دی گئی تھی۔
توشہ خانہ سیکشن کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ اعتراض سامنے نہیں آیا۔
بریگیڈیئر (ر) محمد احمد کے مطابق تحائف کی قیمت کا تعین اور توشہ خانہ کے ساتھ تمام خط و کتابت بھی عمران خان کی ہدایت پر ہی کی گئی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب توشہ خانہ کیس میں مزید گواہوں اور شواہد پر نظر رکھی جا رہی ہے، اور مقدمہ ملک کی سیاست اور قانون کی دنیا میں خاصی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: توشہ خانہ
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔