توشہ خانہ ٹو کیس: عمران خان کے سابق ملٹری سیکرٹری کا اہم بیان منظرعام پر آگیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
راولپنڈی میں زیر سماعت توشہ خانہ ٹو کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے سابق ملٹری سیکرٹری بریگیڈیئر (ر) محمد احمد کا بیان سامنے آگیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ 2 کیس کا ٹرائل حتمی مرحلے میں داخل
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ 2021 کے دورۂ سعودی عرب کے دوران ملنے والے تحائف توشہ خانہ میں جمع نہ کرانے کی ہدایت عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے دی تھی۔
تحائف کی نوعیت اور تفصیلبریگیڈیئر (ر) محمد احمد کے مطابق تحائف میں جیولری سیٹ، عود کی بوتلیں، زیتون کا تیل، کھجور اور ایک کتاب شامل تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان تحائف کی تصاویر سرکاری پروٹوکول کے تحت بنائی گئیں اور وزارتِ خارجہ نے تحریری طور پر وزیرِ اعظم آفس کو آگاہ بھی کیا تھا۔
قیمت کا تعین اور جمع شدہ رقمسابق ملٹری سیکرٹری نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی ولی عہد کے تحائف کی مالیت سرکاری طور پر 29 لاکھ 14 ہزار 500 روپے لگائی گئی۔
بشریٰ بی بی کی جانب سے اس کے عوض رقم جمع کرائی گئی اور توشہ خانہ سیکشن نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ ان کے مطابق مالیت کا تعین اور خط و کتابت ڈپٹی ملٹری سیکرٹری نے عمران خان کی ہدایت پر کی۔
ایف آئی اے کی تحقیقاتایف آئی اے حکام کے مطابق بلغاری جیولری سیٹ کی اصل قیمت ساڑھے سات کروڑ روپے تھی، تاہم عمران خان نے پرائیویٹ اپریزر سے اس کی قیمت صرف 59 لاکھ روپے لگوائی اور اس میں سے بھی 29 لاکھ روپے سرکاری خزانے میں جمع کرائے۔
یہ بھی پڑھیں:کروڑوں کے تحائف کی قیمت دانستہ چند لاکھ لگائی گئی، توشہ خانہ ٹو کیس کے گواہان کے ہوشربا انکشافات
حکام کا کہنا ہے کہ جیولری سیٹ میں نیکلیس، بریسلیٹ، ایررنگز اور انگوٹھی شامل تھے۔
دیگر گواہان کے بیاناتواضح رہے کہ اس سے قبل عمران خان کے سابق پرسنل سیکرٹری انعام اللہ شاہ اور پرائیویٹ اپریزر صہیب عباسی کے بیانات بھی عدالت میں پیش کیے جا چکے ہیں، جنہوں نے تحائف کی قیمت کم لگانے کے معاملے پر اعتراف کیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بشریٰ بی بی توشہ خان توشہ خانہ کیس ٹو عمران خان ملٹری سیکریٹری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: توشہ خان توشہ خانہ کیس ٹو ملٹری سیکریٹری ملٹری سیکرٹری توشہ خانہ تحائف کی توشہ خان
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔