پی ٹی آئی کے سابق سیکرٹری اطلاعات احمد جواد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
پی ٹی آئی کے سابق سیکرٹری اطلاعات احمد جواد گرفتار WhatsAppFacebookTwitter 0 5 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق سیکرٹری اطلاعات احمد جواد کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے گرفتار کرلیا گیا۔ حکام کے مطابق انہیں پیکا کے تحت جی تھرٹین کے علاقے سے حراست میں لیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق احمد جواد کو نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کی ٹیم نے کارروائی کے دوران جی تھرٹین، اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ احمد جواد کے خلاف پیکا قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، تاہم ان پر عائد الزامات کی مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
یاد رہے کہ احمد جواد ماضی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں، بعد ازاں وہ پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے اور پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔
ذرائع کے مطابق احمد جواد کو مزید تفتیش کے لیے متعلقہ ادارے کے حوالے کردیا گیا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمیگا کرپشن؛ راولپنڈی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے اسٹینوگرافر نے اربوں روپے کی خوردبرد کا اعتراف کرلیا میگا کرپشن؛ راولپنڈی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے اسٹینوگرافر نے اربوں روپے کی خوردبرد کا اعتراف کرلیا سپریم کورٹ کی کینٹین میں گیس سلنڈر دھماکے کا ایک زخمی دم توڑ گیا اسلام آباد ہائیکورٹ :سابق سی ای او پی آئی اے مشرف رسول اور وقاص احمد کے تنازعہ کیس کی سماعت ‘ پولیس پر شدید... پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی متنازع ٹوئٹس کے مقدمات سے بری عدالت کا خاتون، بچوں کی گرفتاری کےمعاملے میں ملوث پولیس اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا عندیہ لندن میں ورلڈ ٹریول مارکیٹ 2025 میں پاکستان پولین کا افتتاح
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سیکرٹری اطلاعات احمد جواد
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔