پنجاب بھر میں اساتذہ کے ساتھ ریشنلائزیشن میں ہونے والی حق تلفی کا ازالہ کیا جائے، اساتذہ کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پنجاب بھر میں اساتذہ کے ساتھ ریشنلائزیشن میں ہونے والی حق تلفی کا ازالہ کیا جائے. گوجرانوالہ کی خاتون ٹیچر کو ریشنلائزیشن پالیسی رولز کے برعکس تیس کلو میٹر دور ٹرانسفر کردیا گیا. ان خیالات کا اظہار تنظیم اساتذہ پاکستان صوبہ پنجاب کے رہنماؤں صدر تنظیم پنجاب پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الرحمان ضیاء، پروفیسر اظہر تسنیم چیمہ ، ڈاکٹر عبدالرزاق نیازی ، غلام فرید چوہدری، عصمت نذیر بھٹی، عبدالرزاق باجوہ ،رانا مقیم خان، عبدالصبور واہلہ، صدر تنظیم اساتذہ خواتین صوبہ پنجاب صدر سلمی سعید ،نائب صدر منزہ عندلیب، سیکرٹری حلیمہ سعدیہ، جوائنٹ سیکرٹری حمیرا اسماء، سیکرٹری مالیات خولہ زبیر، سیکرٹری نشرواشاعت کرن زاہداور دیگر نے گوجرانوالہ میں ریشنلائزیشن میں متاثرہ خاتون ٹیچر راشدہ اسلم کی بلاجواز ٹرانسفر پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا.
بھارت ابھی تک پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے جبکہ ہم نے محنت سے سفارتی محاذ پر کامیابیاں حاصل کیں،عطاتارڑ
انہوں نے مطالبہ کہ خاتون ٹیچر کا تبادلہ کینسل کرکے اسے اپنے ہوم اسٹیشن پر تعینات کیا جائے . انہوں نے کہا پنجاب بھر میں مردوخواتین اساتذہ کو مختلف طریقوں سے الجھن کا شکار کرنا انتہائی نامناسب رویہ ہے. الجھنوں کا شکار اساتذہ تعلیم وتدریس کا فریضہ بہ خوبی سرانجام نہیں دے سکتے ناقص پالیسیوں کی وجہ سے تنگ آکر مجبوراً ریٹائرمنٹ لے رہے ہیں . اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ مردوخواتین اساتذہ کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں اور ان کے گھروں کے قریب ترین تعلیمی اداروں میں پوسٹنگ کی جائے تاکہ وہ بروقت ڈیوٹی پر پہنچ کر تعلیم وتدریس کا فریضہ سرانجام دے سکیں.
امریکی ڈرون پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرتے ہوئے افغانستان میں داخل ہو رہے ہیں، طالبان کا الزام
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔