توشہ خانہ ٹوکیس؛چشم دید گواہ سابق ملٹری سیکرٹری بریگیڈیئر(ر)محمد احمد کا بیان سامنے آ گیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن)بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹوکیس میں چشم دید گواہ سابق ملٹری سیکرٹری بریگیڈیئر(ر)محمد احمدکا بیان سامنے آ گیا۔
نجی ٹی وی چینل جیونیوز کے مطابق سابق ملٹری سیکرٹری بریگیڈیئر(ر)محمد احمد عدالت میں بیان ریکارڈ کر اچکے ہیں،سابق ملٹری سیکرٹری نے بلگاری سیٹ توشہ خانہ میں جمع نہ کرانے کا بتایا۔
بریگیڈیئر(ر)محمد احمدکاکہناتھا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی نے سعودی ولی عہد کے تحائف توشہ خانہ میں جمع نہ کرانے کاکہا، تحائف میں جیولری سیٹ، عود کی بوتلیں،زیتون کا تیل، کھجور اور ایک کتاب شامل تھی،نیب اور ایف آئی کے سامنے بھی بیان ریکارڈ کراچکا ہوں،غیرملکی دوروں میں تحائق وصولی کے وقت وزارت خارجہ کے نمائندے موجود ہوتے ہیں،سعودی عرب میں ملنے والے تحائف پر وزارت خارجہ نے پی ایم آفس کو تحریری طور پر بتایا، توشہ خانہ کابینہ ڈویژن کے ماتحت ہے۔
کرایو تھراپی یا کوبلیشن مشین کسی طرح بھی کیموتھراپی کا متبادل ہے یا نہیں ؟ڈاکٹر وقاص نوازنے ڈاکٹر فیضان ملک کی شفایوسفزئی سے گفتگو کی ویڈیو شیئر کردی
سابق ملٹری سیکرٹری کاکہناتھا کہ سعودی عرب سے ملے تحائف کی مالیت 29لاکھ 14ہزار500روپے لگائی گئی،بشریٰ بی بی کو سعودی ولی عہد کے تحائف کے عوض رقم جمع کرائی گئی،توشہ خانہ سیکشن کی طرف سے کوئی اعتراض نہیں آیا، مالیت کا تعین اور توشہ خانہ سے خط و کتابت ڈپٹی ملٹری سیکرٹری نے بانی پی ٹی آئی کے حکم پر کی،15مئی 2020سے 10اپریل 2022تک بطور ملٹری سیکرٹری فرائض انجام دیئے،7مئی 2021سے 10مئی 2021تک دورہ سعودی عرب میں سابق وزیراعظم کے ساتھ تھا۔
ایف آئی اے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ بلگاری جیولری سیٹ کی اصل مالیت ساڑھے 7کروڑ روپے تھی،بانی پی ٹی آئی نے پرائیویٹ اپریزر سے قیمت 59لاکھ روپے لگوائی،بانی پی ٹی آئی نے صرف29لاکھ روپے سرکاری خزانے میں جمع کرائے،جیو لری سیٹ میں نیکلیس، بریسلیٹ، ایئررنگز اور انگوٹھی تھی۔
پنجاب میں کچرا ٹھکانے لگانے کا جدید منصوبہ ،تعلیمی اداروں میں5 رنگ کے کوڑے دان رکھنے کا حکم نامہ جاری
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سابق ملٹری سیکرٹری بریگیڈیئر ر محمد بانی پی ٹی ا ئی توشہ خانہ
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔