برسوں بعد امریکی ایوانِ نمائندگان کے وفد کا چین کا اہم دورہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
چند برسوں کے وقفے کے بعد امریکی ایوانِ نمائندگان کا ایک اعلیٰ سطحی وفد چین کے سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچا، جہاں دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات میں بہتری کے امکانات پر زور دیا گیا۔
ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے نمائندے ایڈم اسمتھ کی قیادت میں یہ وفد چین پہنچا، جہاں اس نے بیجنگ میں چینی وزیر اعظم لی کیانگ سے ملاقات کی۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق، یہ دورہ 2019 کے بعد پہلا موقع ہے کہ امریکی قانون ساز براہِ راست چینی قیادت سے ملاقات کر رہے ہیں، جسے دونوں ملکوں کے درمیان برف پگھلنے کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ملاقات کے دوران چینی وزیراعظم لی کیانگ نے واضح کیا کہ چین امریکہ کے ساتھ “باہمی احترام، پرامن بقائے باہمی اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری” کا خواہاں ہے۔ ان کا کہنا تھا:
“ہم چاہتے ہیں کہ امریکہ بھی اسی جذبے کے ساتھ تعلقات کو مثبت اور تعمیری سمت میں لے کر چلے۔”
ایڈم اسمتھ نے چینی قیادت کے ساتھ ملاقات کو “امید کی کرن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو تسلیم کرنا ہوگا کہ تعلقات کو مستحکم بنانے کے لیے باہمی مکالمہ ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا:
“ہمیں امید ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جمی برف اب پگھلنا شروع ہو جائے گی۔”
یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ اور چین کے تعلقات کئی اہم معاملات — جیسے تجارتی پالیسی، تائیوان، انسانی حقوق، اور جنوبی بحیرہ چین — پر تناؤ کا شکار رہے ہیں۔ ایسے میں اس طرح کا رابطہ نہ صرف سفارتی سطح پر ایک خوش آئند پیش رفت ہے بلکہ عالمی سطح پر استحکام کے لیے بھی امید افزا ہے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔