سکھر اسمال ٹریڈرز پرانجمن تاجران کا اعتماد کا اظہار ،عہدیداران کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سکھر(نمائندہ جسارت) سکھر اسمال ٹریڈرز پر انجمن تاجران نیم کی چاڑھی نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے شمولیت کا اعلان کردیا، سکھر اسمال ٹریڈرز کے صدر حاجی محمد جاویدمیمن کی قیادت میں سکھر اسمال ٹریڈرز کے عہدیداران نے انجمن تاجران نیم کی چاڑھی کے نومنتخب عہدیداران سرپرست اعلیٰ محمد اعظم آرائیں، صدر محمد عارف میمن، جنرل سیکریٹری نثار احمد خان، سینئر نائب صدر سید عمیر علی شاہ، نائب صدر ابوبکر، ایڈیشنل جنرل سیکریٹری سید فرحان شاہ، جوائنٹ سیکریٹری محمد زاہد قادری، پریس سیکریٹری دلشاد علی میمن، و دیگر کو ہار پہنا کر اور مٹھائی کھلا کر مبارکباد پیش کی۔ اس موقع پر حاجی محمد جاویدمیمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سکھر کے اندر ہم نے تاجر اتحاد کی سیاست کی ہے اور ہمیشہ چھوٹے تاجروں کے مسائل کے حل کیلئے دن رات ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہتے ہیں، ملکی معیشت میں چھوٹے تاجروں کا بڑا اہم کردار ہے اور ہمیشہ چھوٹے تاجروں نے معیشت کی مضبوطی اور وطن عزیز پاکستان کے استحکام کیلئے کام کیا ہے، موجودہ دور میں چھوٹے تاجروں کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی بنیادی وجہ ٹیکسز کے نظام میں کوئی پلاننگ نہیں ہے بجلی کی لوڈشیڈنگ اور بلدیاتی مسائل عروج پر ہیں، جس کی وجہ سے تجارتی بازاروں میں آمد و رفت کا نظام اور خریداروں کی کمی رہتی ہے حکومت کو چاہیئے کہ ملکی معیشت کو مضبوط کرنے کیلئے چھوٹے تاجروں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں ، سکھر کے تمام چھوٹے تاجروں کے ساتھ ہم ہمیشہ کھڑے ہیں اور ان کے مسائل کے حل کیلئے کوشاں ہیں، اس موقع پر انجمن تاجران نیم کی چاڑھی کے صدر محمد عارف میمن اور جنرل سیکریٹری نثار علی خان نے سکھر اسمال ٹریڈرز کے صدر حاجی محمد جاوید میمن و دیگر عہدیداروںحاجی غلام شبیر بھٹو، عبدالقادر شیوانی، رئیس قریشی،بابو فاروقی،محمد منیر میمن، محمد کاشف شمسی، عبدالباری انصاری ، طارق علی میرانی، ڈاکٹر سعید اعوان، ذاکر خان ، عاصم فاروقی، ایاز علی ابڑوویگر کو خوش آمدید کہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چھوٹے تاجروں کے کے مسائل
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔