نیٹ فلکس کی مقبول ترین سیریز ’اسٹرینجر تھنگز‘ کا سنسنی سے بھرپور ٹریلر جاری، کب ریلیز ہوگی؟
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
نیٹ فلکس کی مقبول ترین سائنس فکشن اور ہارر سیریز ’اسٹرینجر تھنگز‘ کے آخری سیزن کا طویل انتظار ختم ہوگیا ہے۔ نیٹ فلکس نے حال ہی میں اس سیزن کا پہلا آفیشل ٹریلر جاری کردیا ہے جس نے مداحوں کی توجہ سمیٹ لی ہے اور ان کی دلچسپی مزید بڑھ گئی ہے۔
نیٹ فلکس کی جانب سے جاری کیے گئے ٹریلر میں دکھایا گیا ہے کہ ہاکنز شہر ایک بار پھر تباہی کے دہانے پر ہے جبکہ اس بار پوری دنیا کو شیطانی طاقت سے خطرہ لاحق ہے۔
مشہور ولن ’ویکنا‘ کی واپسی کے ساتھ کہانی پہلے سے زیادہ سنجیدہ، پراسرار اور خوفزدہ کرنے والا رُخ اختیار کرتی نظر آتی ہے جبکہ اس سیریز کی مرکزی اداکارہ ملی بوبی براؤن ایک بار پھر اپنی جان داؤ پر لگا کر اس خوفناک دشمن کا سامنا کر رہی ہیں۔
FINAL TRAILER ???? #StrangerThings5
pic.
نیٹ فلکس نے ٹریلر کے ساتھ یہ بھی اعلان کیا ہے کہ اس سیریز کا پانچواں اور آخری سیزن دو حصوں میں ریلیز کیا جائے گا، تاکہ مداحوں میں مزید تجسس بڑھاتے ہوئے کہانی کو مکمل کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ اسٹرینجر تھنگز کے آخری سیزن کا پہلا حصہ 26 نومبر جبکہ دوسرا حصہ کرسمس کے موقع پر ریلیز کیا جائے گا جبکہ کئی ممالک میں اس کی آخری قسط کو سنیما گھروں میں دکھانے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نیٹ فلکس
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔