ترکیہ میں بحیرہ ایجیئن حادثہ، مہاجرین کی کشتی ڈوبنے سے 17 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
ترکیہ کے سیاحتی مقام بودروم کے قریب بحیرہ ایجیئن میں ایک دلخراش حادثے میں مہاجرین کی کشتی ڈوب گئی، جس کے نتیجے میں 17 تارکینِ وطن جان کی بازی ہار گئے۔ حکام کے مطابق دو افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے۔
صوبہ موغلا کے گورنر آفس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ 17 میں سے 14 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں، جب کہ باقی لاپتا افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ واقعے کے بعد چار کوسٹ گارڈ کشتیاں، ایک ہیلی کاپٹر اور ماہر غوطہ خوروں کی ٹیمیں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
زندہ بچ جانے والے ایک شخص نے بتایا کہ کشتی میں اچانک پانی بھرنا شروع ہو گیا، اور تقریباً دس منٹ کے اندر وہ مکمل طور پر ڈوب گئی۔ دوسرے شخص نے تیر کر چیلبی جزیرے تک پہنچ کر جان بچائی۔ حکام کے مطابق زندہ بچنے والوں میں ایک افغان شہری بھی شامل ہے۔
رپورٹس کے مطابق ترکیہ کے ساحل سے یونان کے قریبی جزائر، خصوصاً ساموس، روڈس اور لیسبوس کے درمیان سمندری راستہ نسبتاً مختصر مگر انتہائی خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ بودروم کا علاقہ یونانی جزیرے کوس کے قریب واقع ہونے کے باعث اکثر غیرقانونی طور پر یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے مہاجرین کا مرکز بنا رہتا ہے۔
عالمی تنظیم برائے مہاجرین (IOM) کے *مسنگ مائیگرنٹس پراجیکٹ* کے اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال اب تک بحیرہ روم کے راستے یورپ پہنچنے کی کوشش میں کم از کم 1,400 تارکینِ وطن اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔