سیلفی کے دوران 130 فٹ چٹان سے گرنے والا سیاح معجزانہ طور پر زندہ بچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
چین کے ہوائینگ ماؤنٹین کے قریب ایک پہاڑی ٹریک پر سیلفی لیتے ہوئے ایک سیاح کا دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جب وہ 130 فٹ اونچی چٹان سے نیچے جا گرا، مگر خوش قسمتی سے معمولی زخمی ہو کر بچ گیا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جب سیاح تصویر لینے کے لیے آگے جھکا تو اس کے پاؤں کے نیچے موجود چٹان کا حصہ ٹوٹ گیا اور وہ زمین کی طرف تیزی سے سرکنے لگا۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق قریب موجود ٹریکرز نے فوراً دوڑ کر صورتحال دیکھی اور دیکھا کہ سیاح درختوں میں جا گرا، جس کی وجہ سے وہ صرف ہلکے زخموں کے ساتھ بچ گیا۔
بعد میں سیاح نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ وہ خود کو خوش قسمت سمجھتا ہے اور اسے “پہاڑ کے دیوتاؤں کی حفاظت” حاصل رہی، وہ تقریباً 40 میٹر نیچے گرا اور پھر مزید 15 میٹر تک لڑھکتا رہا۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی صارفین میں ایک بار پھر خطرناک انداز میں سیلفی لینے کے رجحان پر بحث چھڑ گئی، سیلفی کے دوران زیادہ تر حادثات اونچائی سے گرنے یا پانی میں ڈوبنے کے باعث پیش آتے ہیں اور کئی بار جان لیوا بھی ثابت ہوتے ہیں۔
ایسے واقعات پہلے بھی ہو چکے ہیں؛ 2019 میں بھارت میں ایک خاتون پہاڑی مقام پر سیلفی لیتے ہوئے پھسل گئی تھی مگر جھاڑیوں کی وجہ سے محفوظ رہی، جبکہ 2018 میں امریکا کے یو سی میٹی نیشنل پارک میں ایک جوڑا سیلفی کے دوران تقریباً 800 فٹ نیچے گر کر ہلاک ہوگیا تھا۔
تازہ ترین ویڈیو کی وائرل ہونے کے بعد حکام نے ایک بار پھر سیاحوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بغیر حفاظتی نشان والے کناروں کے قریب نہ جائیں، خبردار کرنے والے بورڈز کی ہدایات پر عمل کریں اور تصویر کھینچنے کے شوق سے زیادہ اپنی حفاظت کو ترجیح دیں، تاکہ ایسا خطرناک حادثہ دوبارہ نہ پیش آئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔