پنجاب میں فضائی آلودگی کی شرح ایک بار پھر خطرناک حدوں کو چھونے لگی
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
کراچی:
لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں فضائی آلودگی کی شرح ایک بار پھر خطرناک حدوں کو چھونے لگی۔
ہفتہ کے روز جاری ہونے والے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق شیخوپورہ 257 اے کیو آئی کے ساتھ صوبے کا سب سے آلودہ شہر بن گیا، فیصل آباد 253 اور لاہور 241 کی سطح کے ساتھ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔
گوجرانوالہ میں فضائی آلودگی کا انڈیکس 208 ریکارڈ کیا گیا، ڈیرہ غازی خان میں 167، سرگودھا میں 151، بہاولپور میں 143، سیالکوٹ میں 139، ملتان میں 132 اور راولپنڈی میں 110 رہا۔
ماہرین کے مطابق 200 سے زائد اے کیو آئی کی سطح انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر تصور کی جاتی ہے جبکہ 150 سے زائد درجہ غیر صحت بخش میں آتا ہے، لاہور کے اندر مختلف علاقوں میں بھی فضائی آلودگی کی شدت میں نمایاں فرق دیکھا گیا۔ شہر کا سب سے آلودہ علاقہ سفاری پارک ریکارڈ کیا گیا جہاں اے کیو آئی 339 تک پہنچ گیا جبکہ برکی روڈ پر 322، ملتان پر 298، اور شاہدرہ میں 220 رہا۔
اسی طرح جی ٹی روڈ پر فضائی آلودگی 213، کاہنہ نو میں 207، پنجاب یونیورسٹی میں 199 اور ڈی ایچ اے فیز 6 میں 187 ریکارڈ کی گئی۔ یہ تمام سطحیں عالمی ادارۂ صحت کے تجویز کردہ معیار سے کئی گنا زیادہ ہیں۔
حکام کے مطابق مشرقی پنجاب (بھارت) سے آنے والی آلودہ ہواؤں نے لاہور اور وسطی پنجاب کی فضا کو اپنی لپیٹ میں لیا جس کے نتیجے میں فضائی معیار متاثر ہوا۔ اسموگ نگرانی و پیشگی نظام کے مطابق اگلے چوبیس گھنٹوں میں اوسط اے کیو آئی 220 سے 240 کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ اے کیو آٸی میں أضأفے کی وجہ وقتی طور ہواؤں کا رخ لاہور کی جانب ہونا ہے اسکا مقامی صورت حال سے تعلق نہیں۔
علاقائی تجزیے کے مطابق لدھیانہ، جالندھر اور ہریانہ کے صنعتی و زرعی علاقوں سے اٹھنے والا دھواں لاہور، فیصل آباد اور شیخوپورہ تک پہنچا۔ بھارتی پنجاب میں فصلوں کی باقیات جلانے کے باعث PM2.
Tagsپاکستان
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل فضائی آلودگی اے کیو آئی کے مطابق
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.