کیا آپ کو رات کی گہری نیند کے بعد بھی دن بھر نیند کی طلب رہتی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کیا آپ کو بھی رات بھر پرسکون نیند لینے کے باوجود دن کے وقت مسلسل نیند آنے کی شکایت رہتی ہے؟ اگر ایسا ہے تو ممکن ہے کہ آپ ایک نایاب نیند کی بیماری ایڈیوپیتھک ہائپرسومنیا (Idiopathic Hypersomnia) میں مبتلا ہوں۔
یہ ایک ایسی حالت ہے جس میں متاثرہ شخص کو غیر معمولی حد تک نیند کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ زیادہ نیند لینے کے باوجود بھی ایسے افراد خود کو تر و تازہ محسوس نہیں کرتے بلکہ دن بھر تھکن، سستی اور الجھن کا شکار رہتے ہیں۔
برطانیہ کے ایک خیراتی ادارے ہائپر سومنولینس یو کے کے مطابق برطانیہ میں 25 ہزار میں سے ایک سے بھی کم شخص اس بیماری میں مبتلا ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق چونکہ اکثر مریضوں میں اس کیفیت کی تشخیص نہیں ہو پاتی، اس لیے بہت سے افراد کو علم ہی نہیں ہوتا کہ وہ اس عارضے میں مبتلا ہیں۔
ماضی میں کیے گئے بعض مطالعات سے ظاہر ہوا کہ ایڈیوپیتھک ہائپرسومنیا ایک عام حالت ہو سکتی ہے جو مرگی یا بائی پولر ڈس آرڈر جیسے امراض سے مشابہت رکھتی ہے۔
اگرچہ اس بیماری کی وجوہات تاحال واضح نہیں ہو سکیں، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ممکنہ طور پر دماغی یا اعصابی نظام سے جڑا مسئلہ ہے۔ بدقسمتی سے اس کا کوئی مستقل علاج فی الحال دریافت نہیں ہو سکا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نہیں ہو
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔