آزاد کشمیر میں سیاسی ہلچل، پیپلز پارٹی نے نئی حکومت بنانے کا دعویٰ کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
اسلام آباد / مظفرآباد (صغیر چوہدری) — آزاد کشمیر کی سیاست میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ موجودہ انوارالحق حکومت کے لیے مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں، جب کہ پیپلز پارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ نئی حکومت بنانے کے لیے تمام ضروری مراحل مکمل کرنے کے قریب ہے۔
پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما چوہدری محمد یاسین نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پارٹی کو مطلوبہ عددی اکثریت حاصل ہو چکی ہے، اور اتحادی جماعتوں سے مشاورت حتمی مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق آئندہ منگل تک عبوری سیٹ اپ تشکیل دے دیا جائے گا اور نئی حکومت کے قیام کا اعلان متوقع ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے مختلف پارلیمانی گروپس اور آزاد اراکینِ اسمبلی کی حمایت حاصل کر لی ہے، جبکہ وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار کے نام پر مشاورت جاری ہے۔ اتحادی جماعتوں کے درمیان پاور شیئرنگ فارمولے پر بھی قابلِ ذکر پیش رفت ہوئی ہے، اور تمام معاملات کو جلد حتمی شکل دینے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والی یہ نئی صورتِ حال انوارالحق حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے، جب کہ پیپلز پارٹی کئی ہفتوں سے پسِ پردہ سیاسی رابطوں میں مصروف تھی تاکہ حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا