آزاد کشمیر حکومت کے مقدر کا فیصلہ ہو گیا، صدر آصف زرداری نے تحریک عدم اعتماد لانےکاحکم دےدیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
سٹی42: پیپلز پارٹی آزادکشمیر میں اپنی حکومت بنانے کے لئے میدان مین آ گئی۔ صدر آصف علی زرداری نے آزاد کشمیر میں موجودہ حکومت کو فارغ کرنے کے لئے عدم اعتماد کی تڑیک لانےکی منظوری دے دی۔
آج پاکستان پیپلز پارٹی کی آزاد کشمیر کی قیادت اور پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے پارٹی کے اہم اجلاس میں یہ طے کیا تھا کہ آزاد کشمیر میں حکومت کی پریشان کن پرفارمنس مزید انتظار کرنے کی گنجائش نہین دے رہی، اس حکومت کو ہٹانے کے لئے پیپلز پارٹی کو راست اقدام کرنا پڑے گا۔ پارٹی قیادت نے چئیرمین بلاول بھتو زرداری کی صدارت مین ہونے والے اجلاس مین یہ فیصلہ کیا کہ تحریک عدم اعتماد لانے یا نہ لانے کا فیصلہ صدر آصف علی زرداری کریں۔
اب پارٹی ذرائع بتا رہے ہیں کہ صدر آصف زرداری نے آزاد کشمیر میں عدم اعتماد لانے کی منظوری دے دی ہے۔ پیپلز پارٹی نے آزادکشمیر میں اپنی حکومت بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اداکار شریاس تالپڑے اور الوک ناتھ کے خلاف کروڑوں روپے کے فراڈ میں ملوث ہونے کا الزام، مقدمہ درج
پیپلز پارٹی آزادکشمیر کے رہنما چوہدری یاسین نے بتایا کہ آزاد کشمیر پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کے تمام ارکان اجلاس میں شریک ہوئے۔ پہلے سیشن کی صدارت چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نےکی، دوسرا سیشنصدر آصف علی زرداری کی قیادت میں ہوا۔
برازیل: شہری نے انشورنس رقم کے لالچ میں اپنی لگژری پورش گاڑی کو آگ لگا دی
اجلاس میں آزادکشمیر کے وزیراعظم انوارالحق کو ہٹانے اور نئی حکومت بنانے سے متعلق اہم بنیادی فیصلے کئے گئے اور ان فیصلوں پر عمل درآمد کرنے کے لئے حکمت عملی طے کی گئی۔
اجلاس میں پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر میں ان ہاؤس تبدیلی لانے کا ابتدائی فیصلہ برقرار رکھا۔
صدر آصف علی زرداری نے آزادکشمیر میں عدم اعتماد کی تحریک منظور کروا کر پارٹی کی حکومت بنانےکی منظوری دے دی ۔
رجانہ موٹروے انٹرچینج کے قریب حادثہ، ایک ہی خاندان کے 3 افراد جاں بحق
اجلاس کے بعد میڈیا کے لئے بریفنگ میں چوہدری یاسین نے بتایا، پیپلزپارٹی آزادکشمیر میں حکومت بنانے جارہی ہے، اس حوالے سے حتمی فیصلہ کرلیا گیا، آزاد کشمیر میں وزیراعظم کون بنےگا، فیصلہ پارٹی قیادت کرے گی۔
چوہدری یاسین کا مزید کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کےنام کا اعلان کریں گے۔
چوہدری یاسین نے کہا، مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی ایک پیج پر ہیں۔ عدم اعتماد کی تحریک لانا پڑی تو مسلم لیگ نون ہماری مکمل حمایت کرے گی۔ ن لیگ وفاق میں ہے تو آزاد کشمیر میں کابینہ میں شمولیت پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے،
پنجاب حکومت کا ڈرون پولیسنگ اور آرمز ریگولیشن کے نئے قوانین متعارف کرانیکا فیصلہ
قبل ازیں چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت زرداری ہاؤس اسلام آباد میں ہوئے پی پی پی آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کے اہم اجلاس میں سیاسی حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا تاہم حکومت کی تبدیلی یا علیحدگی سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوسکا تھا۔
اجلاس میں فریال تالپور، سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف اور قمر زمان کائرہ، صدر پیپلز پارٹی آزاد کشمیر چوہدری یاسین کی قیادت میں پوری پارلیمانی پارٹی اجلاس میں شریک ہوئی، اسپیکر آزاد کشمیر اسمبلی چوہدری لطیف اکبر، جاوید ایوب، رفیق نئیر، بازل نقوی اور جاوید بڈھانوی، فیصل راٹھور، نبیلہ ایوب اور سردار حاجی یعقوب نے بھی شرکت کی تھی۔
محمود الرشید کی نومئی سانحہ میں سزا معطلی کی درخواستیں 28 اکتوبر کو سماعت کیلئے مقرر
بلاول بھٹو زرداری نے قیادت کو اتحاد برقرار رکھنے اور عوامی رابطہ مہم تیز کرنے کی ہدایت کی جبکہ اجلاس میں آزاد کشمیر میں حکومتی کارکردگی، تنظیمی امور اور آئندہ انتخابی حکمت عملی زیر بحث آئی تھی۔
پیپلز پارٹی وزیراعظم کسے بنائےگی
وزارت عظمیٰ کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئیر موسٹ لیڈر چوہدری یاسین، لطیف اکبر اور سردار یعقوب ہیں، اب تک پارٹی قیادت نے تینوں میں سے کسی کو وزیراعظم بنانے کے لئے واضح اعلان نہیں کیا لیکن تاثر یہ ہے کہ سینئیر موسٹ پارلیمنٹیرین ہونے اور پارٹی کاآذاد کشمیر مین قائد ہونے کے ناطے چوہدری یاسین کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔
پیپلز پارٹی کی کوشش ہو گی کہ آذاد کشمیر کےوزیراعظم انوار الھق کو استعفیٰ دینے کے لئے قائل کیا جائے۔ اگر انہوں نے زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے از خود استعفیٰ دے دیا تو ریاست میں نو کانفیڈنس موشن اور ووٹوں کی کھینچا تانی کی نوبت آئے بغیر ان ہاؤس تبدیلی آ جائے گی۔
پارٹی زرائع بتا رہے ہیں کہ ہےکہ وزیراعظم آزادکشمیر چوہدری انوار الحق خود ہی مستعفی نہ ہوئے تو تحریک عدم اعتماد کے لیے نمبر پورے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری پیر کے روز حکومت سازی کا باقاعدہ اعلان کریں گے۔
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: صدر ا صف علی زرداری بلاول بھٹو زرداری پارلیمانی پارٹی چوہدری یاسین پیپلز پارٹی حکومت بنانے اجلاس میں زرداری کی پارٹی کے پارٹی کی کا فیصلہ پارٹی ا کے لئے
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔