سٹی42: پیپلز پارٹی آزادکشمیر میں اپنی حکومت بنانے کے لئے میدان مین آ گئی۔ صدر آصف علی زرداری نے آزاد کشمیر میں موجودہ حکومت کو فارغ کرنے کے لئے عدم اعتماد  کی تڑیک لانےکی منظوری دے دی۔
 آج پاکستان پیپلز پارٹی کی آزاد کشمیر کی قیادت اور پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے پارٹی کے اہم اجلاس میں یہ طے کیا تھا کہ آزاد کشمیر میں حکومت کی پریشان کن پرفارمنس مزید انتظار کرنے کی گنجائش نہین دے رہی، اس حکومت کو ہٹانے کے لئے پیپلز پارٹی کو راست اقدام کرنا پڑے گا۔ پارٹی قیادت نے چئیرمین بلاول بھتو زرداری کی صدارت مین ہونے والے اجلاس مین یہ فیصلہ کیا کہ تحریک عدم اعتماد لانے یا نہ لانے کا فیصلہ صدر آصف علی زرداری کریں۔
 اب پارٹی ذرائع بتا رہے ہیں کہ صدر آصف زرداری نے  آزاد کشمیر میں عدم اعتماد لانے کی منظوری دے دی ہے۔ پیپلز پارٹی نے  آزادکشمیر  میں اپنی حکومت بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

 اداکار شریاس تالپڑے اور الوک ناتھ کے خلاف کروڑوں روپے کے فراڈ میں ملوث ہونے کا الزام، مقدمہ درج

Caption صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت ایوان صدر اسلام آباد میں پیپلز پارٹی آزادکشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا۔

 پیپلز پارٹی آزادکشمیر  کے رہنما  چوہدری یاسین نے بتایا کہ آزاد کشمیر پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کے تمام ارکان اجلاس میں شریک ہوئے۔  پہلے سیشن کی صدارت چیئرمین بلاول بھٹو  زرداری نےکی،  دوسرا سیشنصدر آصف علی زرداری کی قیادت میں ہوا۔

 برازیل: شہری نے انشورنس رقم کے لالچ میں اپنی لگژری پورش گاڑی کو آگ لگا دی

اجلاس میں آزادکشمیر کے وزیراعظم انوارالحق کو  ہٹانے اور نئی حکومت بنانے سے متعلق  اہم بنیادی فیصلے کئے گئے اور ان فیصلوں پر عمل درآمد کرنے کے لئے حکمت عملی طے کی گئی۔

اجلاس میں پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر میں ان ہاؤس تبدیلی لانے کا ابتدائی فیصلہ برقرار رکھا۔

صدر آصف علی زرداری نے آزادکشمیر میں عدم اعتماد  کی تحریک منظور کروا کر  پارٹی کی حکومت بنانےکی منظوری دے دی ۔

رجانہ موٹروے انٹرچینج کے قریب حادثہ، ایک ہی خاندان کے 3 افراد جاں بحق

اجلاس کے بعد میڈیا  کے لئے بریفنگ میں  چوہدری یاسین نے بتایا،   پیپلزپارٹی آزادکشمیر میں حکومت بنانے جارہی ہے، اس حوالے سے حتمی فیصلہ کرلیا گیا، آزاد کشمیر میں وزیراعظم کون بنےگا، فیصلہ پارٹی قیادت کرے گی۔

چوہدری یاسین کا مزید کہنا تھا کہ   بلاول بھٹو زرداری آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کےنام کا اعلان کریں گے۔

 چوہدری یاسین نے کہا،  مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی ایک پیج پر ہیں۔ عدم اعتماد کی تحریک لانا پڑی تو مسلم لیگ نون ہماری مکمل حمایت کرے گی۔  ن لیگ وفاق میں ہے تو آزاد کشمیر میں کابینہ میں شمولیت پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے، 

پنجاب حکومت کا ڈرون پولیسنگ اور آرمز ریگولیشن کے نئے قوانین متعارف کرانیکا فیصلہ

قبل ازیں چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت زرداری ہاؤس اسلام آباد میں ہوئے پی پی پی آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کے اہم اجلاس میں سیاسی حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا تاہم حکومت کی تبدیلی یا علیحدگی سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوسکا تھا۔

اجلاس میں فریال تالپور، سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف اور قمر زمان کائرہ، صدر پیپلز پارٹی آزاد کشمیر چوہدری یاسین کی قیادت میں پوری پارلیمانی پارٹی اجلاس میں شریک ہوئی، اسپیکر آزاد کشمیر اسمبلی چوہدری لطیف اکبر، جاوید ایوب، رفیق نئیر، بازل نقوی اور جاوید بڈھانوی، فیصل راٹھور، نبیلہ ایوب اور سردار حاجی یعقوب نے بھی شرکت کی تھی۔

محمود الرشید کی نومئی سانحہ میں سزا معطلی کی درخواستیں 28 اکتوبر کو سماعت کیلئے مقرر

بلاول بھٹو زرداری نے قیادت کو اتحاد برقرار رکھنے اور عوامی رابطہ مہم تیز کرنے کی ہدایت کی جبکہ اجلاس میں آزاد کشمیر میں حکومتی کارکردگی، تنظیمی امور اور آئندہ انتخابی حکمت عملی زیر بحث آئی تھی۔

پیپلز پارٹی وزیراعظم کسے بنائےگی

 وزارت عظمیٰ کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئیر موسٹ لیڈر چوہدری یاسین، لطیف اکبر  اور سردار یعقوب ہیں، اب تک پارٹی قیادت نے تینوں میں سے کسی کو وزیراعظم بنانے کے لئے واضح اعلان نہیں کیا  لیکن تاثر یہ ہے کہ سینئیر موسٹ پارلیمنٹیرین ہونے  اور پارٹی کاآذاد کشمیر مین قائد ہونے کے ناطے  چوہدری یاسین کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔

پیپلز پارٹی  کی کوشش ہو گی کہ آذاد کشمیر کےوزیراعظم انوار الھق  کو استعفیٰ دینے کے لئے قائل کیا جائے۔ اگر انہوں نے زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے از خود استعفیٰ دے دیا تو ریاست میں نو کانفیڈنس موشن اور ووٹوں کی کھینچا تانی کی نوبت آئے بغیر ان ہاؤس تبدیلی آ جائے گی۔

پارٹی زرائع بتا رہے ہیں کہ ہےکہ  وزیراعظم آزادکشمیر  چوہدری انوار الحق خود ہی مستعفی نہ ہوئے تو تحریک عدم اعتماد کے لیے نمبر  پورے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری پیر کے روز حکومت سازی کا باقاعدہ اعلان کریں گے۔

Waseem Azmet.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: صدر ا صف علی زرداری بلاول بھٹو زرداری پارلیمانی پارٹی چوہدری یاسین پیپلز پارٹی حکومت بنانے اجلاس میں زرداری کی پارٹی کے پارٹی کی کا فیصلہ پارٹی ا کے لئے

پڑھیں:

کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی

 نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔

مزید پڑھیں

لاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال

اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔

اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ